مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
ان حقیقتوں کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ اسلام میں جنگ کی صرف ایک قسم کا جواز ہے، اور وہ دفاعی جنگ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی جنگ، مثلاً جارحانہ وار، پراکسی وار، گوریلا وار اور پھر بلا اعلان وار، یہ سب کے سب اسلام میں قطعی ناجائز ہیں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس قسم کی جنگوں کو اسلامی جنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مذکورہ تعریف کے مطابق، دہشت گردی کی ہر تحریک یقینی طور پر ناجائز ہے، ایسی کسی تحریک کو اسلامی جہاد کا نام دینا اس کو جائز نہیں بناتا۔ ایسی ہر کوشش گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے، وہ یقینی طور پر ایسی کسی جنگ کا اسلامی جواز نہیں۔ کھلی مذمت ضروری قرآن و حدیث میں اہل ایمان کو جو احکام دیے گئے ہیں ان میں سے ایک حکم وہ ہے جس کو انکار منکر کہا جاتا ہے۔ یعنی برائی ہو رہی ہو تو اس کو دیکھ کر چپ رہنا ایک سنگین جرم ہے۔ کسی آدمی کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ براہ راست طور پر برائی میں شریک نہیں۔ اگر وہ برائی کو دیکھنے کے باوجود چپ رہے تو وہ بالواسطہ طور پر اس کا مجرم قرار پائے گا۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں مسلمان جگہ جگہ جہاد کے نام پر وہ کر رہے ہیں جس کو ساری دنیا کا پریس دہشت گردی کے عنوان سے رپورٹ کرتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس معاملہ میں دنیا کے تقریباً تمام مسلمان خدا کی نظر میں مجرم ثابت ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق، ساری دنیا میں کوئی بھی قابل ذکر مسلمان نہیں جو تشدد کی اس برائی کو کھلے طور پر کنڈم کرتا ہو۔ مسلمانوں کی ایک تعداد وہ ہے جو اس متشددانہ سرگرمی کو عین اسلامی جہاد قرار دیتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ خودکش بمباری (suicide bombing) کو استشہاد (طلب شہادت) کا نام دے کر اس کو عین درست بتاتی ہے۔ مسلمانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو مذمت کے الفاظ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader