مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
بولتا ہے مگر حقیقت میں وہ مذمت نہیں ہوتی۔ مثلاً وہ کہیں گے کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں، اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر وہ یہ نہیں کہیں گے کہ فلاں فلاں مقام پر مسلمان جو متشدّدانہ تحریک چلا رہے ہیں وہ دہشت گردی ہے اور وہ اسلام کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں ان کی مذمت ایک خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلمانوں کا ایک اور گروہ ہے جو بظاہر نام لے کر مذمت کرتا ہے مگر اسی کے ساتھ وہ ایسے دفاعی الفاظ بھی بولتا ہے جس سے ثابت ہو کہ اس دہشت گردی کی اصل ذمہ داری مسلم دشمنوں کی ہے، نہ کہ خود مسلمانوں کی۔ مذمت کے یہ طریقے یقینی طور پر غیر اسلامی ہیں۔ مذمت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ نہ صرف دہشت گردی کو خلاف اسلام بتایا جائے بلکہ مختلف مقامات پر جہاد کے نام پر جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس کو کھلے لفظوں میں رد کیا جائے اور کہا جائے کہ یہ جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ کی یہی مجرمانہ خاموشی ہے جس کی بنا پر یہ ہو رہا ہے کہ جہاد کے نام پر ہونے والا تشدّد کسی طرح ختم نہیں ہوتا۔ اس مجرمانہ تشدّد میں خود ساختہ مجاہدین اگر براہ راست شریک ہیں تو بقیہ مسلمان بالواسطہ طور پر اس میں شریک ہیں۔ اور اسلامی نقطہ نظر سے، براہ راست شریک اور بالواسطہ شرکت کے درمیان صرف ڈگری کا فرق ہے، ان کے درمیان نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ ناکامی کا کیس امن کی طاقت تشدّد کی طاقت سے زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ امن دانش مندوں کا طریقہ ہے اور تشدّد نادانوں کا طریقہ۔ ایسی حالت میں جب کوئی شخص تشدّد کرتا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے زیادہ طاقتور طریقہ استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ اسی طرح ایسا آدمی اپنے متشدّدانہ عمل سے یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ وہ اپنے مسئلہ کو حل کرنے کے معاملہ میں ایک نادان آدمی ثابت ہوا، نہ کہ دانش مند آدمی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader