Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

امن اور تشدد سادہ طور پر صرف دو طریقے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ انسانیت کے مختلف معیار ہیں۔ امن کا طریقہ اختیار کرنے والا آدمی اپنی انسانیت کو بلند کرتا ہے اور تشدد کا طریقہ اختیار کرنے والا آدمی اپنے آپ کو انسانیت کے اعلیٰ معیار سے نیچے گرا لیتا ہے۔ کوئی مسئلہ پیش آنے کے بعد جب ایک آدمی امن کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے اندر مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ وہ اپنے اخلاقی معیار کو بلند کرتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ اپنے انسان ہونے کی حیثیت کو عملی طور پر ثابت شدہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس جب ایک آدمی اپنے مسئلہ کے حل کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو انسانیت کے نچلے درجہ کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ اپنے انسان ہونے کی حیثیت کو عملی طور پر مشتبہ بنا رہا ہے۔ امن اور تشدد دونوں کسی انسان کی اصل حیثیت کی پہچان ہیں۔ ایک طریقہ اگر انسان کو انسان ثابت کرتا ہے تو دوسرا طریقہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک حیوان تھا، اگر چہ ظاہری طور پر وہ ایک انسان دکھائی دے رہا تھا۔ مذہب خطرہ میں ہے نفرت اور تشدد کا ایک سبب وہ جذباتی سیاست ہے جو اس نعرہ پر چلتی ہے کہ مذہب خطرہ میں ہے۔ کچھ لکھنے اور بولنے والے لوگ غلط یا مبالغہ آمیز تصور پیش کر کے عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کا مذہب دوسروں کی طرف سے خطرہ میں ہے۔ اب تحفظ مذہب کے نام پر جلسہ اور جلوس اور نعرے اور جھنڈے کی سیاست چل پڑتی ہے۔ یہ سیاست مذہب کو تو خطرہ سے نہیں بچاتی البتہ مذہب کو خطرہ سے بچانے کے نام پر پورے سماج کے امن کو تباہ کر کے اس کو خطرہ میں ڈال دیتی ہے۔ اگر مذہب خطرہ میں ہو تو ظاہر ہے کہ کوئی غیر ہوگا جو مذہب کو خطرہ میں ڈالے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page