Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مذہب خطرہ میں ہے

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوگا ۔ اس طرح ”مذہب خطرہ میں “ جیسی سیاست ایک گروہ کے دل میں دوسرے گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے ۔ پھر نفرت کی سیاست سے جب مذہب کے خلاف مفروضہ خطرہ ختم نہیں ہوتا تو اس کے بعد لوگوں کے اندر مایوسی کی سیاست شروع ہوتی ہے ۔ مایوسی کی سیاست اپنی آخری تدبیر کے طور پر تشدد کی سیاست جاری کر دیتی ہے ۔ پھر جب تشدد کی سیاست کار گر ثابت نہیں ہوتی تو خود کشی کی سیاست شروع ہو جاتی ہے ۔ جوش میں بھرے ہوئے نوجوان اپنی بڑھی ہوئی نفرت کو اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بمباری کی صورت میں انڈیل دیتے ہیں ۔ مذہبی خطرہ کی سیاست اپنی آخری حد پر پہنچ کر مذہبی خود کشی کی سیاست بن جاتی ہے ۔ زندگی کے نام پر اٹھنے والے لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے صرف موت کا پیغام ثابت ہوتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تباہ کن سیاست سے نکلنے کا واحد حل یہ ہے کہ تشدد کو ایک ایسا فعل قرار دیا جائے جو ہر حال میں قابل ترک ہو ۔ کوئی بھی عذر، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی بڑا ہو، تشدد کے طریقہ کو استعمال کرنے کے لیے کافی نہ سمجھا جائے ۔ موجودہ دنیا اختلافات کی دنیا ہے ۔ ہر آدمی مسٹر ڈفرنٹ اور ہر عورت مسڑ ڈفرنٹ ہے ۔ اس لیے اس دنیا میں لازمی طور پر لوگوں کے درمیان طرح طرح کے اختلافات پیدا ہوتے ہیں ۔ یہی اختلاف جذباتی صورت اختیار کر کے لوگوں کو نفرت اور تشدد تک پہنچاتا ہے ۔ اور پھر سارا سماج قبرستان کا نمونہ بن جاتا ہے ۔ اس مسئلہ کا ایک ہی حل ہے ۔ اور وہ یہ کہ لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ تم کو ہر حال میں امن کے دائرے میں کام کرنا ہے ۔ کسی بھی حال میں تم کو امن کے دائرے سے باہر نہیں جانا ہے ۔ یہ ذہن اس وقت بن سکتا ہے جب کہ لوگوں کو اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کیا جائے کہ اس دنیا میں کوئی کام صرف امن کے ذریعہ بنتا ہے ، تشدد کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page