مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
ذریعہ کبھی کوئی کام بننے والا نہیں ۔ تشدّد صرف تخریب میں معاون ہوتا ہے ، تشدّد کبھی تعمیر میں معاون نہیں ہوتا۔ " مذہب خطرہ میں " جیسی سیاست کے ذریعہ کا یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ کچھ ہائی پروفائل میں بولنے والے قائد بن کر ابھر آئیں ۔ وہ وقتی طور پر لوگوں میں نمایاں ہو جائیں ۔ ان کے گرد عوام کا بھیڑ اکٹھا ہو ۔ مادی رونقیں انہیں حاصل ہو جائیں ۔ مگر جہاں تک مذہب اور اہل مذہب کا تعلق ہے ، ان کے حصے میں صرف یہ آتا ہے کہ معتدل ماحول سے محروم ہو کر وہ نفرت کے ماحول میں جینے پر مجبور ہو جائیں ۔ تشدّد کا شکار ہو کر وہ اپنے مستقبل کو غیر محفوظ بنا لیں۔ مذکورہ قسم کی سیاست کا آخری نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ افراد ممتاز افراد (celebrities) بن کر نمایاں ہو جائیں ۔ مگر یہ طریقہ مثبت معنوں میں قوم کی تعمیر نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔ یہ طریقہ لیڈر سازی کے لیے کارآمد ہے ، مگر وہ ملت سازی کے لیے ہر گز کارآمد نہیں۔ انتقام سے تشدّد تک اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص کو دوسرے شخص سے کوئی تکلیف پہنچ جائے یا ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طرف سے کوئی ٹھیس پہنچے تو فوراً ان کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے ۔ وہ فریق ثانی سے انتقام لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تاریخ کی اس وارننگ کو بھول جاتے ہیں جو ہر جگہ خاموش الفاظ میں گونج رہی ہے ۔ انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف انتقام کی کارروائی کرتا ہے۔ پھر دوسرا فریق دوبارہ پہلے فریق سے انتقام لیتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے جو صرف اس وقت ختم ہوتا ہے جبکہ دونوں اتنے تباہ ہو جائیں کہ وہ مزید انتقام لینے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader