Urdu book · مسائلِ اجتہاد

ہجر جمیل

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

منفی سوچ کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ یہاں اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے رسول اور اصحاب رسول کی زندگی سے اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ 1۔ ابن اسحق کی روایت ہے کہ مکہ کے قریش رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتے تھے اور سب وشتم کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمم رکھ دیا تھا۔ محمد کا مطلب ہے، تعریف کیا ہوا۔ اس کے بجائے وہ آپ کو مذمم (مذمت کیا ہوا) کہتے تھے۔ روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا: أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا صَرَفَ اللَّهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدُ ( سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 6)۔ یعنی، کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے کس طرح بچا لیا، وہ سب وشتم کرتے ہیں اور مذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں، حالاں کہ میں محمد ہوں۔ پیغمبر اسلام کے اس قول کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مثلاً قریش اگر یہ کہیں کہ ”مذمم مجنون ہے“ تو رسول اللہ اس کا برا اثر نہ لیتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ تمہاری یہ بات اس کے اوپر پڑے گی جس کا نام مذمم ہو، میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کو نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بد گوئی اس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ اس طرح کے حسن اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹر ذاکر حسین کے یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک بار وہ دہلی کی ایک سڑک پر اپنی گاڑی چلا رہے تھے، اتفاق سے ان کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سے معمولی طور پر ٹکرا گئی۔ ان کی گاڑی میں رگڑ (dent) آ گیا۔ اس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف روک کر اترا۔ ذاکر صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اتر گئے۔ اس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ (idiot)۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page