ہجر جمیل
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی لفظ کے معنی ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ انہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا: Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain. جناب، میں مسٹر ایڈ یٹ نہیں ہوں۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سن کر اس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ساری (sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہو گیا۔ 2۔ ہجرت کے بعد حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ مکہ کے سرداروں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس وقت حدیبیہ کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدۂ امن تیار کیا گیا۔ اس معاہدہ کے وقت قریش نے ضد کا مظاہرہ بھی کیا اور تشدد کا مظاہرہ بھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ان کی ایک طرفہ شرطوں پر معاہدہ کیا جائے ۔ اصحاب رسول کو اس سے بے حد تکلیف ہوئی۔ اس طرح کی شرطوں پر معاہدہ کرنا ان کو بظاہر ذلت کا معاہدہ معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ۔ قریش آج جو خاکے بھی پیش کریں گے، بشر طیکہ اس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو، میں ضرور اس پر راضی ہو جاؤں گا (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 358)۔ دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوار کو ایک گوارا معاملہ بنالیا۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت برا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا کھا کہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبار حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہر قیمت پر قریش سے صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعث طریقہ کے طور پر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صلح کے ہر خا کہ کو منظور کر لوں گا بشرطیکہ اس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو۔ حالاں کہ پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader