Urdu book · مسائلِ اجتہاد

ہجر جمیل

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اس وقت مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام عبداللہ بن ابی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگرچہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا مگر اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اسید بن حضیر سے کیا۔ انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اِرْفُقْ بِهِ، فَوَ اللَّهِ لَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِكَ، وَإِنَّ قَوْمَهُ لَيَنْظِمُونَ لَهُ الْخَرَزَ لِيُتَوِّجُوهُ، فَإِنَّهُ لَيَرَى أَنَّكَ قَدْ اسْتَلَبْتَهُ مُلْكًا (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ (336) ۔ یعنی، اے خدا کے رسول، اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجیے، خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اس کی قوم کے لوگ اس کے لیے تاج تیار کر رہے تھے تا کہ وہ اس کو اپنا بادشاہ بنائیں ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اس کا مقام اس سے چھین لیا ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کی شر انگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں۔ حسن اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ 4۔ اوپر ہجر جمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال لیجیے ۔ جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس میں ایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے جو اگرچہ زبان سے بولی نہیں جاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طور پر اس میں شامل رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہفتہ قیام فرمایا۔ اس دوران قریش نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page