ہجر جمیل
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
مختلف قسم کی زیادتیاں کیں۔ مثلاً ایک صحابی کو تنہا پا کر انہیں تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے، اتنے میں قریش کے کچھ لوگ آئے اور آپ پر تیر برسانے لگے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز صورت حال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دس سال کا امن معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کی دفعات حضرت عمر پر سخت ناگوار تھیں۔ وہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا: يَا أَبَا بَكْرِ أَلَيْسَ بِرَسُولِ اللَّهِ قَالَ: بَلَى قَالَ: أَوْ لَسنا بِالْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: بَلَى قَالَ أَوْ لَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا (السيرة النبوية لابن كثير، جلد 3، صفحہ 320)۔ یعنی اے ابوبکر، کیا محمد اللہ کے رسول نہیں، انہوں نے کہا ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا ہم مسلمان نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا وہ مشرک نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کیوں گوارا کریں۔ روایات کے مطابق، حضرت عمر نے یہی بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہی۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی زیادتیوں کے باوجود ان کی یک طرفہ شرطوں پر دس سال کا جو امن معاہدہ کیا تھا، وہ ایک نہایت اہم اسلامی مصلحت کی بنا پر تھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ دشمن سے معاہدۂ امن کر کے معتدل حالات پیدا کیے جائیں تا کہ اسلامی دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری ہو سکے۔ مگر یہ نصیحت نہ امن معاہدہ کے اندر لکھی گئی اور نہ حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کی شدید ناگواری کے باوجود آپ نے حدیبیہ کے مقام پر اس کا اعلان کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader