ہجر جمیل
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہجر جمیل (حسن اعراض) کا دوسرا پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو ہمیشہ مخفی حالت میں ہوتا ہے۔ اس پہلو کو لفظوں میں پانا ممکن نہیں۔ اگر اس کو لفظوں میں لکھا یا بولا جائے تو اس کی ساری معنویت ختم ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک رویہ درست ہے۔ یا تو وہ اتنا زیادہ ہوش مند ہوں کہ سطور کے اندر بین السطور کو پڑھ لیں۔ وہ اعلان کے بغیر اس کی اہمیت کو دریافت کر لیں۔ جن لوگوں کے اندر اتنی ہوش مندی نہیں ہے ان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی بصیرت پر اعتماد کریں۔ وہ صرف اعتماد اور حسن ظن کی بنا پر یہ عقیدہ رکھیں کہ ان کے رہنما نے جو بات کہی ہے اس کے پیچھے ضرور کوئی گہری مصلحت ہوگی۔ ہمارا کام اپنے رہنما کی اتباع کرنا ہے، نہ کہ اس کی دیانت داری (integrity) پر شک کرنا۔ 5۔ صلح حدیبیہ بظاہر ایک ایسی صلح تھی جو دشمن کے مقابلے میں دب کر کی گئی۔ مگر اس کے اندر ایک غیر اعلان شدہ مقصد چھپا ہوا تھا اور وہ تھا ٹکراؤ کو ایوائڈ کر کے اپنے لیے وقفۂ تعمیر حاصل کرنا۔ اگر یہ بات معاہدہ کے متن میں لکھ دی جاتی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان اسی وقت اس کا اعلان کر دیتے تو صلح کے مقاصد سرے سے فوت ہو جاتے۔ اس قسم کے مقاصد ہمیشہ اعلان کے بغیر ہوتے ہیں، نہ کہ اعلان کے ساتھ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں تک کہ بعد کو جب اس کا عملی نتیجہ ظاہر ہو گیا، اس وقت لوگوں نے جانا کہ اس صلح کے اندر کتنی بڑی مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابو بکر صدیق نے بعد کے زمانہ میں ان الفاظ میں بیان کی: مَا كَانَ فَتْحٌ أَعْظَمَ فِي الْإِسْلَامِ مِنْ فَتْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ قَصُرَ رَأْيُهُمْ عَمَّا كَانَ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَرَبِّهِ، وَالْعِبَادُ يَعْجَلُونَ وَاللَّهُ لَا يَعْجَلُ كَعَجَلَةِ الْعِبَادِ حَتَّى يُبْلِغَ الْأُمُورَ مَا أَرَادَ ( مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 610)۔ یعنی، اسلام میں حدیبیہ کی فتح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader