ہجر جمیل
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے بڑی فتح تھی۔ لیکن معاہدہ کے دن لوگوں کو اس بات میں رائے قائم کرنے میں کوتاہی ہوئی جو محمد اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ انسان عجلت پسند ہے اور اللہ انسانوں کی طرح عجلت نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ امور کو وہاں تک پہنچادے جو وہ چاہتا ہے۔ 6۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) سادہ طور پر محض ایک بچاؤ کی تدبیر نہیں، بلکہ وہ بامقصد انسان کی سوچی سمجھی ایک مستقل اخلاقی روش ہے۔ بامقصد انسان کے سامنے ایک متعین منزل ہوتی ہے، جہاں پہنچنا اس کا سب سے بڑا اکنٹرن (concern) ہوتا ہے۔ اس لیے وہ راستے کے ہر الجھاؤ سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے تاکہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنی آخری منزل تک پہنچ سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قدیم مکہ کے لوگوں نے پیغمبر اسلام کو بہت زیادہ ستایا تھا۔ آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اتنا زیادہ تشدد کیا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ چھوڑ دینا پڑا۔ اس ترک وطن کے بعد بھی وہ آپ کے خلاف مسلسل جارحیت کرتے رہے۔ آخر کار وہ وقت آیا جب کہ پیغمبر اسلام اللہ کی مدد سے مکہ کے فاتح بن گئے۔ اب وقت تھا کہ ماضی کے ظلم کی انہیں سزا دی جائے۔ عام رواج کے مطابق، ان کو قتل کر دینا عین جائز تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے ان لوگوں کے ساتھ ہجر جمیل کی روش اختیار کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب قریش کے یہ مجرم آپ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ۔ اخ کریم وابن اخ کریم ۔ ( آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں) ۔ پیغمبر اسلام نے اس کے بعد فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ میں تمہارے بارہ میں وہی کہوں گا جو پیغمبر یوسف نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (12:92)۔ یعنی ، آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں یہ کہہ کر آپ نے فرمایا کہ ۔ جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔ اس طرح آپ نے ان تمام لوگوں کو آزاد کر دیا جو اس سے پہلے آپ کے خلاف کھلے دشمن بنے ہوئے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader