مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کا یہ عمل ایک با مقصد انسان کے عمل کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ پیغمبر اسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کریں۔ مکہ کے لوگوں کو شرک سے نکال کر انہیں خدائے واحد کا پرستار بنائیں۔ اپنے دشمن انسان کو دوست انسان میں تبدیل کر کے توحید کی بنیاد پر وہ انقلاب لائیں، جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ پیغمبر اسلام کے یک طرفہ حسن سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے تمام لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ۔ فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ (شرح معانی الآثار للطحاوی، حدیث نمبر 5454)۔ یعنی، پھر وہ لوگ وہاں سے اس طرح نکلے جیسے کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ پیغمبر اسلام اگر اس کے برعکس ان دشمنوں سے ان کی ظالمانہ روش کا انتقام لیتے تو اس کے بعد یہ ہوتا کہ وہاں انتقام در انتقام کا دور چل پڑتا۔ ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام شروع ہو جاتا اور پھر حالات ایسا منفی رخ اختیار کر لیتے کہ سارا تعمیری منصوبہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ غیر فطری ردعمل جب کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو اس کے مقابلے میں آدمی کی روش کی دو مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جذباتی ردعمل کا طریقہ، اور دوسرا غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ۔ جذباتی ردعمل عین وہی چیز ہے جس کو میڈیکل اصطلاح میں الرجی (allergy) کہا جاتا ہے۔ الرجی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ الرجی نام ہے، معتدل حالات میں غیر معتدل رد عمل کا۔ Abnormal reaction to normal things. مثلاً اپنے خلاف تنقید کو سن کر غصہ ہونا، اسی قسم کی ایک الرجی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی کسی بات پر تنقید کرتا ہے تو اس کا معتدل اور فطری رد عمل یہ ہے کہ آپ کھلے ذہن کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader