غیر فطری ردعمل
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو سنیں اور کھلے ذہن کے ساتھ اس پر غور کریں۔ اگر تنقید غلط ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ دلیل کے ساتھ اس کا جواب دیں اور اگر تنقید درست ہے تو سیدھی طرح اس کو مان لیں۔ اس کے برعکس، تنقید کو سن کر بگڑ جانا تنقید کا غیر معتدل اور غیر فطری انداز میں جواب دینا ہے۔ پہلی صورت مریضانہ ذہنیت کا ثبوت ہے اور دوسری صورت صحت مند ذہنیت کا ثبوت۔ اسی طرح مخالفانہ نعرہ سن کر مشتعل ہو جانا، توہین کے کسی معاملہ پر بھڑک اٹھنا، اپنے راستے میں کوئی رکاوٹ دیکھ کر بگڑ جانا، اپنی سوچ کے خلاف سوچ کو برداشت کر سکنا، یہ سب جذباتی ردعمل کی صورتیں ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ دوسروں کے خلاف نفرت اور تشدد میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ زندگی کے مثبت اور تعمیری رخ کا تجربہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ ہے۔ اسی کو قرآن میں ہجر جمیل کہا گیا ہے۔ یعنی جب اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات پیش آئے تو مشتعل نہ ہو کر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرنا، اور سوچے سمجھے فیصلے کے تحت معتدل انداز میں اس کا جواب دینا۔ اس معتدل جواب کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ سادہ طور پر بس اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ یعنی وہی رویہ جس کو عام زبان میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے۔ اسی طرح کبھی ہجر جمیل کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مخالف گروہ کی بدعملی کا جواب خوش عملی سے دیا جائے۔ اس کے پست اخلاق کے مقابلہ میں برتر اخلاق کا طریقہ اختیار کر کے اس کو مغلوب کر لیا جائے۔ اسی طرح کبھی حالات کا تقاضا یہ ہوسکتا ہے کہ دباؤ کی سیاست (pressure tactics) کا طریقہ اختیار کر کے اس کو خاموش ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔ ہجر جمیل کی کوئی ایک لگی بندھی صورت نہیں۔ حالات کے اعتبار سے اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ تاہم جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ سوچے سمجھے منصوبہ کی بنیاد پر ہوگی،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader