جنگ سے امن تک
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ سے امن تک قرآن میں دو مقام پر آیت آئی ہے کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے جنگ کرو: وَقْتِلُوْهُمْ حَتَّی لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ (2:193)۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر ( religious persecution ) ہے۔ اس آیت کے ذریعہ رسول اور اصحاب رسول کو حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ مذہبی جبر کے موجودہ نظام کو توڑ دوتا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا ماحول قائم ہو جائے۔ جو لوگ اللہ کے دین کو اختیار کرنا چاہیں ان کے راستے میں کوئی پابندی باقی نہ رہے۔ واضح ہو کہ پیغمبر اسلام کے معاصر قوتوں نے آپ کے خلاف خود ہی بدء (التوبۃ، 9:13) کا عمل کیا۔ اس طرح انہوں نے جارحیت کا آغاز کر کے فتنہ کے خلاف آپ کے آپریشن کو دفاعی جنگ کی صورت دے دی۔ اس آیت میں ایک معلوم اور متعین مقصد کے لیے جنگ کا حکم دیا گیا تھا، اور وہ تھا، مذہبی جبر کا خاتمہ۔ اس آیت کو لے کر کسی اور مقصد کے لیے جنگ چھیڑنا درست نہ تھا۔ مگر بعد کے زمانے میں ایسا کیا گیا کہ قتالِ فتنہ کے حکم کی توسیع کر کے اس کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک انحراف (deviation) یا گاڑی کا اپنی پٹری سے اترنا (derailment) تھا۔ مگر ایسا ہوا، اور اس کا سلسلہ کسی نہ کسی عنوان سے آج تک جاری ہے۔ 1۔ اس سلسلے میں پہلا انحراف اصحاب رسول کی دوسری نسل (second generation) میں پیش آیا۔ اس معاملہ میں دو نام زیادہ نمایاں ہیں۔ ایک الحسین بن علی (م 61ھ) اور دوسرے عبداللہ بن الزبیر (م 73ھ)۔ دونوں حضرات نے اموی حکمران یزید بن معاویہ کے خلاف خروج (بغاوت) کیا۔ دونوں حضرات نے اپنے عمل کے وجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader