Urdu book · مسائلِ اجتہاد

جنگ سے امن تک

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

سے جواز کے طور پر یزید کے ظلم کا حوالہ دیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس قتال فتنتہ کا تعلق مذہبی جبر سے تھا اس میں تصرف کر کے اس کو انہوں نے سیاسی بدعنوانی ( political corruption ) تک وسیع کر دیا۔ قتال فتنتہ کے حکم کی یہ توسیع بلاشبہ ایک اجتہادی خطا تھی۔ اس کا قطعی ثبوت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے واضح طور پر یہ حکم دیا تھا کہ میرے بعد حکمرانوں کے بگاڑ کو لے کر ہرگز ان کے خلاف خروج نہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں حضرات کی جنگوں کے وقت صحابہ کرام کی بڑی تعداد موجود تھی، مگر وہ ان جنگوں میں شریک نہیں ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ بعد کے زمانے کی یہ جنگ قتال فتنتہ کے حکم سے انحراف ہے، نہ کہ اس کا اتباع ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 7095)۔ 2۔ اس سلسلہ کا دوسرا انحراف زیادہ بڑے پیمانہ پر خلافت راشدہ کے بعد شروع ہوا اور پھر تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ یہ انحراف مسلم حکمرانوں کی طرف سے کیا گیا۔ انہوں نے مذہبی جبر کے خلاف جنگ کے مفہوم میں اضافہ کر کے اس کو مسلم سلطنت کی توسیع (political expansion) کے معنی میں لے لیا۔ وہ پوری دنیا میں مسلم سلطنت کی توسیع کے لیے لڑائیاں لڑتے رہے۔ قتال فتنتہ کے حکم کی یہ توسیع بھی بلاشبہ ایک انحراف تھی۔ قرآن میں امت کو عالمی مشن دیا گیا تھا وہ شہادت علی الناس تھا، نہ کہ لوگوں کے اوپر اپنا سیاسی اقتدار قائم کرنا۔ یہی بات پیغمبر اسلام نے اس طرح فرمائی کہ اللہ نے مجھ کو سارے انسانوں کے لیے بنا کر بھیجا ہے۔ اس لیے تم میرے لائے ہوئے پیغام کو میری طرف سے تمام دنیا والوں تک پہنچادو: فَأَدُّوَاعَنِّي ( سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 607)۔ اس اعتبار سے بعد کے دور میں مسلمانوں کا اصل کام دعوت الی اللہ تھا، نہ کہ اقتدار کی سیاست چلانا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page