جنگ سے امن تک
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
3_ اس سلسلہ کا تیسرا شدید تر انحراف وہ ہے جو موجودہ زمانہ میں پیش آیا۔ یہ کچھ مسلم مفکرین کی طرف سے مذکورہ قرآنی آیت کی نام نہاد انقلابی تفسیر تھی۔ ان لوگوں نے آیت کے حکم میں خود ساختہ توسیع کرکے اس کو قتال برائے تنفیذ احکام کے معنی میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آیت کے مطابق، ہر زمانے کے مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ حکمرانوں سے جنگ کرکے اسلام کے احکام کو ہر جگہ نافذ کریں۔ قتال فتنه کے حکم میں یہ توسیع ایک مہلک قسم کا انحراف ہے۔ اس نے مسلمانوں کے اندر غلط طور پر یہ ذہن پیدا کیا کہ ہر جگہ اسلامی حکومت قائم کرنا ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہر جگہ جہاد کے نام پر تشدد دہونے لگا۔ کچھ مسلمان گن اور بم لے کر دنیا والوں پر ٹوٹ پڑے۔ دوسرے مسلمان جنہوں نے اس متشددانہ فعل میں عملاً شرکت نہیں کی، وہ بھی اس انقلابی نظریہ سے اتنا مسحور ہوئے کہ وہ اس کی ہمت نہ کرسکے کہ وہ کھل کر اس کی مذمت کریں اور اس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کریں۔ بیسویں صدی عیسوی پوری کی پوری اسلام کے نام پر اس غیر اسلام کا نمونہ بن گئی۔ اس کا نتیجہ دو مہلک صورتوں میں برآمد ہوا۔ ایک ، اسلام کی بدنامی ۔ ساری دنیا میں اسلام خلاف واقعہ طور پر نفرت اور تشدد کا مذہب سمجھا جانے لگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ لندن کے مشہور انگریزی روزنامہ میں اسلام کے بارے میں ایک آرٹیکل چھپا جس کا عنوان یہ تھا۔ ایک مذہب ، جو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے۔ A religion that sanctions violence. دوسری خرابی یہ ہوئی کہ موجودہ زمانے میں اسلامی دعوت کے حق میں جو نئے قیمتی امکانات پیدا ہوئے تھے وہ استعمال ہونے سے رہ گئے ۔ مسلمان خود ساختہ جہاد کے نام سے اپنے آپ کو بے فائدہ طور پر ہلاک کرتے رہے، وہ جدید مواقع کو استعمال کرکے اسلام کا حیات بخش پیغام دوسروں تک نہ پہنچا سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader