مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
ایکسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے لیے پہلا ضروری کام اسی غلطی کی تصحیح ہے۔ کوئی بھی دوسرا کام کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اسلام کے نام پر ہونے والے تشدّد کو فوری طور پر اور مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ اس معاملے میں کسی بھی عذر کو، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی سنگین ہو، رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کے حقیقی احیاء کا نقطہ آغاز یہی ہے۔ نفرت اور تشدّد کے ماحول کو ختم کر کے اہل اسلام سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، اس کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ امن برائے امن امن (peace) کیا ہے۔ اہل علم اس کی تعریف کس طرح کرتے ہیں کہ امن عدم جنگ (absence of war) کا نام ہے۔ یعنی جنگ نہ ہو رہی ہو تو کہا جائے گا کہ امن قائم ہے۔ جنگ کی حالت نہ ہونے کا نام امن کی حالت ہے۔ جو لوگ اپنے کسی حق (right) کے نام پر متشددانہ جنگ کر رہے ہیں، وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ امن مع انصاف (peace with justice) کا نام امن ہے۔ جس امن سے انصاف حاصل نہ ہو وہ امن بھی نہیں۔ یہ دوسرا نظریہ ایک غلط سوچ کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ اس طرح سوچیں ان کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ انصاف۔ حقیقت یہ ہے کہ امن مقصد مواقع (opportunities) کو حاصل کرنا ہے، نہ کہ انصاف کو حاصل کرنا۔ امن بجائے خود کسی کو انصاف نہیں دیتا۔ امن صرف یہ کرتا ہے کہ وہ معتدل حالات قائم کر دیتا ہے جس میں عمل کر کے انصاف یا حق حاصل کیا جا سکے۔ موجودہ دنیا میں جب بھی کسی کو کوئی چیز ملتی ہے وہ اس کے اپنے عمل کے نتیجے میں ملتی ہے۔ امن کا فائدہ صرف یہ ہے کہ وہ آپ کے حق میں معتدل حالات پیدا کر دے جس میں آپ کے لیے اپنے موافق منصوبہ بندی کرنا ممکن ہو جائے۔ جنگ و تشدّد کے حالات کام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader