مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مواقع کو برباد کرتے ہیں۔ جب کہ امن اور صلح کے حالات کام کرنے کے تمام دروازے اس طرح کھول دیتے ہیں کہ اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔ جنگ کا دور ختم پائرس (Pyrrhus) قدیم یونان کا ایک بادشاہ تھا۔ وہ 319 ق م میں پیدا ہوا، اور 272 ق م میں اسکی وفات ہوئی۔ 279 ق م میں اس کی لڑائی رومیوں (Romans) سے ہوئی ۔ اس جنگ میں شاہ پائرس جیت گیا۔ مگر جب لڑائی ختم ہوئی تو اس کی اقتصادیات اور اس کی سیاسی اور فوجی طاقت پوری طرح تباہ ہو چکی تھی۔ اسی واقعہ سے پرک وکٹری (Pyrrhic Victory) کی اصطلاح بنی ہے، یعنی تباہ کن فتح۔ قدیم زمانے میں پرک وکٹری یا تباہ کن فتح کا واقعہ بہت کم پیش آ سکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں جدید ہتھیاروں کی ایجاد کے بعد ہر جنگ تباہ کن جنگ بن چکی ہے۔ اب جنگ جیتنے والے اور جنگ ہارنے والے کے درمیان اتنا ہی فرق ہوتا ہے کہ اخباروں میں دونوں کی خبریں الگ الگ الفاظ میں چھپتی ہیں، ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا معاملہ ایک ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ہار بھی ہار ہے اور جیت بھی ہار۔ موجودہ زمانے میں جنگ صرف خودکشی ہے، جنگ اب کسی مثبت مقصد کو حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ کسی قوم سے کوئی چیز کھوئی گئی ہو تو اس کے لیے صبر ہے، نہ کہ جنگ۔ کیوں کہ جنگ اب اس کے لیے محرومی پر ذلت کا اضافہ ہے۔ امن کا بدل جنگ نہیں، امن کا بدل گفت و شنید ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال پاکستان کی تاریخ میں ملتی ہے۔ پاکستان 1947 میں بنا۔ اس وقت بنگلہ دیش پاکستان کا مغربی حصہ تھا۔ پھر ایسے حالات پیش آئے کہ بنگلہ دیش پاکستان سے پوری طرح الگ ہو گیا۔ آخر کار پاکستان نے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader