مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
دینی شعور کو بیدار کرنے کے لیے انجام دیتے تھے۔ آپ کی یہ کوششیں بھی توسعی مفہوم میں صحبت رسول کا ایک حصہ تھیں۔ ان کی کوششوں کے دوران آپ مسلسل اہل ایمان کے دینی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ توسعی صحبت کے معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں اس قسم کی ایک مثال نقل کی جاتی ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ: ”إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ“ ( مسند احمد، حدیث نمبر 9624 )۔ یعنی، ابوہریرہ بتاتے ہیں کہ ایک شخص نے ابو بکر کے خلاف سب وشتم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر متعجب ہوتے رہے اور تبسم فرماتے رہے۔ جب اس آدمی نے بہت زیادہ سخت کلامی کی تو ابو بکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دے دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ پھر ابو بکر چل کر ان سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، وہ آدمی مجھ کو سب شتم کر رہا تھا اور آپ بیٹھے رہے۔ پھر جب میں نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ کر چلے آئے۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے بول رہا تھا۔ پھر جب تم نے اس کو بعض باتوں کا جواب دیا تو ( فرشتہ چلا گیا ) اور شیطان آ گیا۔ تو میں نے شیطان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader