تووسی صحبت
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اس چیز کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس کو ہم نے پیغمبر کے ذریعہ ملی ہوئی شعوری بیداری کہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر دو قسم کی صفات ہوتی ہیں ۔ نفس امّارہ اور نفس لوّامہ۔ نفس امّارہ شیطان کی علامت ہے اور نفس لوّامہ فرشتہ کی علامت۔ ایک آدمی آپ کو گالی دے اور آپ چپ رہیں تو گالی دینے والے کا نفس لوامہ بیدار ہو کر اندر ہی اندر اس کو ملامت کرتا رہتا ہے۔ یہ گویا آپ کی طرف سے فرشتہ کا جواب دینا ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ ایسا کریں کہ سخت کلامی کے جواب میں آپ بھی سخت کلامی کریں تو دوسرے آدمی کا نفس امّارہ متحرک ہو جائے گا۔ یہ آدمی کا شیطان کے زیر اثر آ جانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس تلقین کے ذریعے صحابہ کو ایک عظیم حقیقت بتائی۔ آپ نے صحابہ کے اندر وہ فکری روشنی پیدا کی جو ہر معاملہ میں ان کی کامیابی کی ضامن بن جائے، خواہ وہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اہل ایمان کو ایک گہری سوچ عطا کی۔ آپ نے بتایا کہ ہر انسان کے اندر پیشگی طور پر دو مختلف قسم کی شخصیات چھپی ہوئی ہیں۔ ایک، تمہاری دشمن شخصیت اور دوسری، تمہاری دوست شخصیت ۔ یہ تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ تم فریق ثانی کو اپنا دوست بناتے ہو یا اپنا دشمن۔ اگر تم نے فریق ثانی کے نفس امّارہ کو جگایا تو اس کی دشمن شخصیت تمہارے حصہ میں آئے گی ۔ اور اگر تم نے اس کے نفس لوامہ کو جگایا تو اس کی دوست شخصیت تمہارے حصہ میں آئے گی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ اس اہم حقیقت کی طرف نشاندہی فرمائی کہ اس دنیا میں کچھ نہ کرنے کا نام بھی کرنا ہے اور کچھ نہ بولنے کا نام بھی بولنا۔ اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader