امن کی طاقت
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
پر موجود تھا مگر کتاب الدعوۃ یا کتاب المبلغ سرے سے وہاں موجود ہی نہ تھا۔ دعوت کا حکم وہ قرآن میں پاسکتے تھے مگر قرآن کو انہوں نے ماخذ احکام کی حیثیت سے چھوڑ رکھا تھا۔ وہ اخذ احکام کا ذریعہ صرف فقہ کو سمجھتے تھے، اور کتب فقہ کے صفحات دعوتی رہنمائی سے بالکل خالی تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتہاد، بالفاظ دیگر، قرآن وسنت سے براہ راست احکام اخذ کرنا کتنا زیادہ مفید ہے اور تقلید، بالفاظ دیگر، مدوّن فقہ کو احکام اخذ کرنے کا واحد ذریعہ سمجھ لینا، کتنا زیادہ نقصان دہ ہے۔ یہی غلطی برصغیر ہند کے مسلم رہنماؤں سے اس وقت ہوئی جب کہ انگریزوں کے غلبے کے بعد انہوں نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی نے 1823 میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے (فتاویٰ عزیزی فارسی، دہلی، 1322ھ، صفحہ 17)۔ اس کے بعد پانچ سو علما نے اپنے مشترک دستخطوں سے یہ فتویٰ جاری کیا کہ مسلمانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ مسلمانان ہند کو چاہیے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد (قتال) کا آغاز کردیں۔ مسلم رہنماؤں کے ان فتووں اور اپیلوں کے بعد ہندوستان کے مسلمان ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد میں مشغول ہوگئے۔ سو سالہ جنگ کے باوجود یہ جہاد عملاً سراسر بے نتیجہ ثابت ہوا۔ مگر عجیب بات ہے کہ آج بھی یہ مسلمان اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان یہی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور انہیں جہاد کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ یہ عجیب و غریب صورت حال کیوں ہے، اس کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ اجتہاد اور تقلید کے بارے میں اپنے مذکورہ مقلدانہ مسلک کی بنیاد پر ان کا ذہن بعد کو مدوّن ہونے والی فقہ میں اٹکا ہوا ہے۔ اور اس فقہ میں ملکوں کی جو تعریف و تقسیم کی گئی ہے، اس کے مطابق ہندوستان جیسا ملک دارالحرب ہی قرار پاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader