مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مسلم رہنما اگر فقہ اور فقہا کے درمیانی دور سے پیچھے جاتے اور قرآن وسنت کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ ہندوستان کی شرعی حیثیت کیا ہے تو یقینی طور پر وہ جان لیتے کہ موجودہ ہندوستان ان کے لیے دار الدعوۃ کی حیثیت رکھتا ہے، جیسا کہ دورِ اول میں اس قسم کے تمام علاقے اہل اسلام کے لیے دار الدعوۃ کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر اجتہاد (براہ راست قرآن و سنت سے مسئلہ اخذ کرنا) ان کے لیے امر ممنوع بنا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف مدوّن فقہ پر انحصار کیا۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ مدوّن فقہ میں صرف دار الحرب کا باب ہے، اس میں دار الدعوۃ کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔ موجودہ فقہ کافی نہیں دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جو فقہ مدوّن ہوئی اس کے بارے میں بعد کو مسلمانوں کا یہ عمومی عقیدہ ہو گیا کہ یہ ایک مکمل فقہ ہے۔ انسانی زندگی سے متعلق قرآن وحدیث کی تمام تعلیمات مفصل اور مکمل طور پر اس میں شامل ہیں۔ یہ عقیدہ اس نظریہ کو حق بجانب ثابت کرتا تھا کہ فقہ کی تدوین کے بعد اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اب صرف اجتہاد مقید (یا مقلدانہ اجتہاد) کا دروازہ مسلمانوں کے لیے کھلا ہوا ہے۔ یہ عقیدہ قدیم زمانے میں بظاہر درست تھا مگر جب حالات بدلے، خاص طور پر جب روایتی دور ختم ہوا اور جدید سائنسی دور آیا تو یہ عقیدہ مسلمانوں کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوا۔ مسلمان اپنے تصور کے مطابق، فقہ کو مکمل قانونی نظام سمجھ بیٹھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انہیں اپنے مسائل کے لیے مدوّن فقہ سے باہر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس بنا پر دور جدید کے مسلمان بہت سی ان قیمتی ہدایات سے محروم ہو گئے جو قرآن و سنت میں تو موجود تھیں مگر مدوّن فقہ میں ان کو جگہ نہیں ملی تھی۔ چند مثالوں سے اس معاملے کی وضاحت ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں جو سیاسی انقلاب آیا اس کے نتیجے میں ایک نیا سیاسی نظام پیدا ہوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader