موجودہ فقہ کافی نہیں
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
جس کو جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ ہماری موجودہ فقہ اس سے پہلے بادشاہت کے دور میں بنی۔ اس لیے اس میں جدید جمہوریت کا کوئی تصور شامل نہ تھا۔ چنانچہ مدوّن فقہ کے ڈھانچے میں سوچنے والے اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں سکے۔ کسی نے اس کو لادینی نظام قرار دے کر اس کو حرام بتایا۔ کسی نے اس کو صرف "سرشماری" سمجھا اور یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا: جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی نعمت کی حیثیت رکھتی تھی۔ قدیم بادشاہت کے برعکس جمہوریت شرکت اقتدار (power sharing) کے اصول پر مبنی ہے۔ جمہوری نظام مسلمانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ حسن تدبیر سے ہر ملک میں سیاسی نفوذ حاصل کر سکیں۔ مگر مسلمان اجتہادی طرز فکر سے محرومی کی بنا پر ایسا نہ کر سکے۔ ان کے مقلدانہ ذہن نے یہ تو سوچا کہ وہ امریکہ جیسے ملک میں خلافت قائم کرنے کی تحریک چلائیں اور کیلی فورنیا کو خیلی فورنیا میں تبدیل کرنے کا مضحکہ خیز خواب دیکھیں۔ مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ وہ شرکتِ اقتدار کے جدید اصول کو استعمال کر کے امریکہ میں اپنی سیاسی جگہ حاصل کریں۔ موجودہ زمانے میں مسلم فکر کی اس پس ماندگی کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے مجتہدانہ طرز فکر، بالفاظِ دیگر مدوّن فقہ سے باہر آ کر، براہِ راست قرآن و حدیث سے رہنمائی لینے کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیا۔ اگر یہ فکری حادثہ نہ پیش آتا اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ قرآن میں تدبر کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ قرآن اس معاملے میں انہیں واضح رہنمائی دے رہا ہے۔ یہ رہنمائی قرآن کی سورۃ نمبر 12 میں موجود ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے پیغمبر یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ بادشاہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader