Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر چہ مشرک تھا اور مشرک ہی مرا، مگر اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر وہ اس کے لیے راضی ہو گیا کہ حضرت یوسف کو اپنے سیاسی نظام میں ایک با اختیار شریک کی حیثیت سے شامل کرے۔ حضرت یوسف اپنے ہم عصر بادشاہ کی اس پیش کش پر راضی ہو گئے اور اس کے سیاسی نظام میں ایک حکومتی عہدہ قبول کر لیا۔ یہ عہدہ بظاہر بادشاہ کے تحت وزیر غذا اور زراعت کا عہدہ تھا مگر عملاً وہ نائب سلطنت کا عہدہ تھا۔ کیوں کہ قدیم زرعی دور میں کسی ملک کی تمام اقتصادی اور غیر اقتصادی سرگرمیاں زراعت (agriculture) پر مبنی ہوتی تھیں ۔ اس لحاظ سے حضرت یوسف کو جو عہدہ ملا وہ گو یا ملک کے سب سے زیادہ کلیدی عہدہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ دور جدید کے مسلمان اگر فقہی تقلید سے گزر کر براہ راست قرآن پر مجتہدانہ غور و فکر کرتے تو وہ جان لیتے کہ قرآن میں حضرت یوسف کا مذکورہ واقعہ ان کے لیے ایک عظیم پیغمبرانہ نظیر ہے۔ وہ انہیں یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ جمہوریت کے نئے دور میں شرکت اقتدار کے اصول کو اپنے حق میں استعمال کریں اور یہ یقین رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا پیغمبر کے اسوہ کے عین مطابق ہے۔ جدید امکانات کا استعمال موجودہ زمانے کے مسلمان عجیب و غریب طور پر ایک استثنائی محرومی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اس محرومی میں شاید کوئی بھی دوسری قوم یا دوسرا گروہ ان کا شریک نہیں۔ وہ ہے— دور جدید کے عظیم امکانات کو استعمال کرنے میں نا کام رہنا۔ موجودہ زمانے میں جن امکانات (opportunities) کا دروازہ انسان کے لیے کھلا، ان میں سے ایک نہایت قیمتی امکان وہ تھا جس کو آزادی (freedom) کہا جاتا ہے۔ فرانس کے انقلابی مفکر روسو نے اپنی کتاب معاہدہ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملے سے کیا تھا: انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page