جدید امکانات کا استعمال
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
پاتا ہوں۔ یہ قول دور جدید کا کلمہ بن گیا۔ یہ تصور اتنا بڑھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمہ طور پر یہ مان لیا گیا کہ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ ہر انسان کا یہ ناقابلِ نسخ حق ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھتا ہے اس کو اختیار کرے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ اس مطلق آزادی کو مقید کرنے والی صرف ایک چیز تھی، وہ یہ کہ آدمی اپنی آزادی کے استعمال میں جارح نہ بنے اور تشدد کے بجائے پرامن ذرائع سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس کی وضاحت کے لیے دو متعلق قصے کا ذکر مفید ہو گا جو اس معاملے کو بخوبی طور پر واضح کرتا ہے۔ 300 سال پہلے جب امریکہ انگریزوں کے سیاسی غلبے سے آزاد ہوا تو ایک امریکی شہری خوشی منانے کے لیے ایک سڑک پر نکلا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلاتا ہوا جا رہا تھا۔ اس دوران اس کا ایک ہاتھ ایک راہ گیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہ گیر نے غصہ ہو کر کہا کہ یہ کیا نامعقول حرکت (What is this nonsense) ہے۔ امریکی شہری نے جواب دیا کہ اب امریکہ آزاد ہے، اب میں جو چاہوں کروں۔ راہ گیر نے نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ بیشک تم آزاد ہو مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے: Your freedom ends where my nose begins. یہ قصہ آزادی کے جدید تصور کو نہایت خوبی کے ساتھ واضح کر رہا ہے۔ جدید دور انسان کو مکمل آزادی دیتا ہے، اس واحد شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے ساتھ تشدد نہ کرے ۔ مہاتما گاندھی جو اپنی مغربی تعلیم کے دوران اس حقیقت کو جان چکے تھے۔ انہوں نے اس کو ہندوستان کی تحریک آزادی میں استعمال کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے 1857 میں ہندوستان کے مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے یہ تحریک پر تشدد طریق کار کے اصول پر چلائی ۔ 60 سال سے زیادہ لمبی مدت تک خونیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader