Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ کرنے کے باوجود یہ تحریک ناکام رہی۔ اس کے بعد 1919 میں مہاتما گاندھی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے طریق کار کو بدل کر آزادی کی اس تحریک کو پر امن جدوجہد کے اصول پر چلایا۔ یہاں تک کہ 1947 میں ہندوستان آزاد ہوگیا۔ اس فرق کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے مقلدانہ فقہی ذہن کی بنا پر طریق کار کے نام سے صرف ایک ہی طریقے کو جانتے تھے اور وہ مسلح جہاد ہے۔ مدوّن فقہ کی تمام کتابیں پر امن جدوجہد (peaceful struggle) کے تصور سے خالی ہیں۔ یہ کتابیں صرف ایک ہی طریقے کا تعارف کراتی ہیں اور وہ پرتشدّد جدوجہد ہے۔ کیوں کہ یہ کتابیں اس دور میں لکھی گئیں جب کہ انسان طاقت کے نام سے صرف تلوار کو جانتا تھا۔ عربی کا ایک قدیم مقولہ ہے: جنگ کو جنگ کاٹتی ہے (الْحَرْبُ أَنْفَى لِلْحَرْبِ) ۔ ایک فارسی شاعر نے اس قدیم تصور کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے — جو شخص تلوار مارتا ہے اسی کا سکہ چلتا ہے : ہر کہ شمشیر زند سکہ بنامش خوانند یہ عسکری طرز فکر موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے کہ شاید کوئی بھی مسلمان اس سے خالی نہیں مختلف شکلوں میں ہر جگہ اس کو دہرایا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک فلسطینی ترانے کا ایک شعر یہ ہے کہ آؤ ہم لڑیں، آؤ ہم لڑیں ۔ کیوں کہ لڑائی ہی کامیابی کا راستہ ہے: هَلُمَّ نُقَاتِلْ، هَلُمَّ نُقَاتِلْ فَإِنَّ الْقِتَالَ سَبِيلُ الرَّشَادِ قدیم فقہ پر مبنی یہ ذہنی ڈھانچہ (mental framework) اتنا زیادہ عام ہوا کہ نام نہاد جدید مفکرین بھی اس کے خول سے باہر نہ آسکے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانے میں ہمارے رہنماؤں کی تمام قربانیاں رائیگاں ہو کر رہ گئیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page