مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں مسلح طریق کار کے مقابلے میں پرامن طریق کار کس طرح زیادہ نتیجہ خیز ہے اس کا اندازہ مہاتما گاندھی کی ایک مثال سے ہوتا ہے۔ وہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں 1919 میں شریک ہوئے۔ اس وقت تک ہندوستان کی تحریک آزادی تشدد کے اصول پر چلائی جارہی تھی۔ برٹش حکومت اس تشدد کو جوابی تشدد سے کچل دیتی تھی۔ مہاتما گاندھی نے اچانک یہ اعلان کیا کہ ہم تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں گے۔ طریق کار کی اس تبدیلی نے برٹش حکومت کو بے بس کر دیا۔ کیوں کہ غیر متشددانہ تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے اس کے پاس کوئی جواز باقی نہ رہا تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ جب مہاتما گاندھی نے تحریک آزادی کے لیڈر کی حیثیت سے نیا اعلان کیا تو ایک انگریز کلکٹر نے اپنے سکریٹریٹ کو یہ ٹیلی گرام بھیجا کہ براہ کرم یہ بتائیں کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے: Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. خلاف زمانہ روش موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر ایک قسم کی خلاف زمانہ روش (anachronistic attitude) میں مبتلا ہو گئے ۔ جن قدیم شخصیتوں کے وہ ذہنی مقلد بنے ہوئے تھے ان کے یہاں پرامن طریق کار یا پرامن جد و جہد کا تصور سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ تصور قرآن وسنت میں واضح طور پر موجود تھا مگر براہ راست قرآن و سنت سے حکم اخذ کرنے کے لیے اجتہاد درکار تھا اور انہوں نے پہلے ہی اجتہاد کا دروازہ اس طرح بند کر دیا تھا کہ ایک صاحب کے بقول اب اس کی کنجی بھی گم ہو گئی تھی۔ قرآن میں فطرت کا ایک ابدی قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: "الصُّلْحُ خَيْرٌ" (4:128)۔ یعنی ٹکراؤ کے طریقہ کے مقابلے میں مصالحانہ طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ یہ واضح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader