Urdu book · مسائلِ اجتہاد

خلاف زمانہ روش

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر تشدد کے مقابلے میں عدم تشدد کی اہمیت کی تعلیم ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللَّهَ رَفِیْقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَالَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر، 2593)۔ یعنی، اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ متشددانہ طریق کار کے مقابلے میں پر امن طریق کار زیادہ نتیجہ خیز ہے۔ پر امن طریق کار (peaceful method) کے حق میں قرآن وسنت میں اس قسم کی واضح تعلیمات موجود تھیں۔ مگر دور جدید کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر ان کو دریافت نہ کر سکے، وہ تشدد کی چٹان سے بے فائدہ طور پر اپنا سر ٹکراتے رہے اور بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ وہ قربانی اور شہادت کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ اس مقلدانہ ذہن نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو بے شمار نقصانات پہنچائے اور فائدہ کچھ بھی نہیں دیا۔ مثال کے طور پر فلسطین کے عربوں کو اگر یہ راز معلوم ہوتا تو وہ 1948 کے بعد اپنی تباہ کن مسلح جدوجہد نہ چھیڑتے بلکہ وہ پرامن طریق کار کو استعمال کرتے ہوئے جدید امکانات سے فائدہ اٹھاتے۔ اس کے بعد فلسطین میں ان کو مزید اضافے کے ساتھ وہی پر عظمت حیثیت حاصل ہو جاتی جو اسی اصول کو استعمال کر کے یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح کشمیر کے مسلمان اگر اس قیمتی راز سے واقف ہوتے تو وہ کشمیر میں گن کلچر اور بم کلچر نہ چلاتے بلکہ اس کے بجائے وہ پیس کلچر چلاتے۔ وہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے جدید امکانات کو استعمال کرتے۔ اس کے بعد وہ نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندوستان میں ایسی با عظمت حیثیت حاصل کر لیتے جو نام نہاد آزاد کشمیر کے مقابلے میں ان کے حق میں 100 گنا زیادہ بہتر ہوتی۔ اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلم رہنما جو مختلف مسلم ملکوں میں لڑ کر اقتدار کی کنجی چھیننے میں مشغول ہیں، اور اپنے ملکوں کو صرف تباہی میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page