Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

اضافے کا تحفہ دے رہے ہیں ، وہ اگر پُر امن طریق کار کی اہمیت کو جانتے تو وہ اپنے ملکوں کو اب تک اسلامی چمنستان بنا چکے ہوتے۔ جیسا کہ سیکولرزم کا عقیدہ رکھنے والوں نے اس اصول کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ملکوں میں انجام دیا ہے ، مثال کے طور پر سنگاپور ، وغیرہ۔ تقلیدی نظر اور اجتہادی نظر کا فرق مولانا سید حسین احمد مدنی ( وفات 1957 ء ) نے لکھا ہے کہ ؀ " تاریخ بتاتی ہے کہ ہند میں جب مسلمان آئے تو عام طور سے اہل ہند بودھ مذہب رکھتے تھے اور چھوت چھات تو در کنار شادی بیاہ تک بخوشی کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر کی ، خاندان کے خاندان مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد جب محمود غزنوی کا زمانہ آیا ہے تو ہندوؤں میں مختلف احوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ اور شنکر اچاریہ لوگوں کو بودھ مذہب سے نکال کر پھر برہمنی مذہب کو اختیار کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور پھر برہمنی مذہب سارے ملک میں پھیل جاتا ہے۔ برہمن چونکہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر ان کے مذہب کو مٹارہا ہے۔ اس لیے انہوں نے عوام میں نفرت کا پروپیگنڈہ پھیلایا اور مسلمانوں کو ملچھ کا خطاب دیا۔ اکبر نے اس تفریقی خیال اور اس عقیدہ کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا۔ اگر اکبر کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہو جاتی۔ اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ اکبر نے (اپنی کم علمی کے باعث ) نفس دین اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں ، جن سے مسلم طبقے میں اس سے بدظنی ہوئی ، اگر چہ بہت سے بدظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتح عرب کا پیش خیمہ ہے۔ جس روز صلح حدیبیہ تمام کو پہنچی ہے اسی روز اناّ فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (48:1) کی آیت نازل ہوئی ۔ آپس میں اختلاط کا ہونا ، نفرت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page