Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی نظر کا فرق

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

کمی آنا، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معائنہ کرنا، دلوں سے ہٹ دھرمی اور ضد کا اٹھ جانا، یہی امور تھے جنہوں نے قریش کو کھینچ کھینچ کر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینہ پہنچادیا۔ الغرض اختلاط باعث عدم تنافر ہے اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا ہے اور تنافر باعث ضد اور عدم اطلاع علی المحاسن ہے۔ اور وہ اسلامی ترقی میں سدّ راہ ہونے والا ہے۔ چونکہ اسلام تبلیغی مذہب ہے۔ اس لیے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہو سکے غیر کو اپنے میں شامل کرے نہ یہ کہ ان کو دور کرے۔ اس لیے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ ہم کو نجس اور ملچھ کہیں تو ہم کو انہیں یہ نہ کہنا چاہیے۔ اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں تو ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہیے۔ وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں تو ہم کو ان کے ساتھ ظالمانہ اور غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہیے۔ ( مکتوبات شیخ الاسلام، جلد 1، مکتوب نمبر 63، مطبوعہ مکتبہ دینیہ، دیوبند، صفحه 146-141 )۔ مولاناسیدحسین احمد مدنی کے اس بیان پر غور کیجیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقلدانہ نظر کس طرح چیزوں کو صرف ان کے ظاہر (face value) پر لیتی ہے، اور مجتہدانہ نظر کس طرح چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ مغل بادشاہ اکبر اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھا مگر وہ بے حد ذہین تھا۔ اس نے اس راز کو سمجھا کہ اسلام اپنی فطری کشش کی بنا پر ہر انسان کو اپیل کرتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان ضد اور نفرت کی فضا نہ پائی جارہی ہو۔ اس نے مزید اس حقیقت کو سمجھا کہ برہمنوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوری پیدا کر کے اسلام کی اشاعت کو مصنوعی طور پر روک دیا ہے۔ اس دریافت کی بنا پر اکبر نے یہ کیا کہ اس نے کچھ بے ضرر ہندو رسموں کو اپنے دربار میں رائج کر دیا۔ اکبر کی یہ روش ہندو مذہب کو اپنانے کے لیے نہ تھی بلکہ وہ صرف تالیف قلب کے لیے تھی۔ اس کا اصل مقصد اسلام کی اشاعت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ لیکن اکبر کے کچھ معاصر علما اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ ان کی نگاہ صرف اکبر کے گیروے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page