مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
کپڑے کو دیکھ سکی۔ اکبر نے جس گہری پالیسی کے تحت وقتی طور پر گیروے کپڑے کو اختیار کیا تھا اس حکمت کو سمجھنے سے وہ قاصر رہے۔ انہوں نے اکبر کے خلاف اتنا طوفان اٹھایا کہ اکبر کا منصوبہ اپنی تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اس معاملے کو غلط رنگ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی تاریخ کا سفر اسلام کی موافقت میں جاری ہونے کے بجائے اسلام کے خلاف جاری ہو گیا۔ مولا نا سید حسین احمد مدنی نے اس معاملے پر جو تبصرہ کیا ہے وہ مجتہدانہ نظر کی ایک واضح مثال ہے۔ وہ اپنی مجتہدانہ بصیرت کی بنا پر اس راز کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ معتدل حالات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اختلاط ہمیشہ اسلام کی اشاعت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ چھری اور خربوزہ کے درمیان اگر ٹکراؤ ہو تو جیت ہمیشہ چھری کی ہوگی۔ خواہ چھری کو خربوزہ کے اوپر رکھا گیا ہو یا خربوزہ کے نیچے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ چھری نے بظاہر اپنے آپ کو خربوزہ کے رنگ میں رنگ لیا ہو۔ تنقید اور اجتہاد تنقید اور تقلید دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جہاں تقلید ہوگی وہاں تنقید نہیں ہوگی۔ اور جہاں تنقید ہوگی وہاں تقلید نہیں ہوگی۔ اجتہاد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اجتہاد لازمی طور پر تنقید چاہتا ہے۔ جہاں تنقید کا ماحول نہ ہو وہاں بھی اجتہاد کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ تاہم تنقید کو تنقید ہونا چاہیے نہ کہ تنقیص۔ تنقید علمی اور منطقی تجزیہ کا نام ہے۔ اس کے بر عکس تنقیص کا سارا انحصار عیب جوئی اور الزام تراشی پر ہوتا ہے۔ تنقید اگر تنقیص کی صورت اختیار کرلے تو وہ سب وشتم ہوگا نہ کہ حقیقی معنوں میں تنقید۔ مثال کے طور پر صلیبی جنگوں کے بعد مسیحی پادریوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کتابیں لکھیں۔ انہوں نے عربوں کی تصویر یہ بنائی کہ وہ ایک وحشی قوم ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ان کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ دوسرے اسلامی خلیفہ عمر فاروق نے جب مصر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader