تنقید اور اجتہاد
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
فتح کیا تو اس وقت وہاں کے شہر اسکندریہ میں ایک بڑا کتب خانہ تھا۔ خلیفہ اسلام کے حکم سے یہ پورا کتب خانہ جلا دیا گیا۔ اس کی تمام قیمتی کتابیں تباہ ہوگئیں۔ اس معاملے میں مسیحی پادریوں کے جواب کی ایک صورت یہ تھی کہ یہ کہا جائے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ وہ صلیبی جنگوں میں شکست کا بدلہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے سازش کے تحت کتب خانہ جلانے کی یہ کہانی بنائی ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں تنقید نہیں ہیں بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ صرف سب وشتم ہیں۔ اس طرح کی باتیں مسیحی پادریوں کے الزام کا علمی جواب نہیں۔ مگر بعد کو بعض اہل علم نے اس معاملے کی تحقیق کی اور خالص تاریخی شواہد کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ حضرت عمر فاروق کے حکم سے اسکندریہ کا کتب خانہ جلا دیا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی فتح کے وقت یہ کتب خانہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عربوں نے 642ء میں مصر کو فتح کیا۔ جب کہ اس سے بہت پہلے 48ء میں رومی حاکم جولیس سیزر کے حکم سے اسکندریہ کے اس کتب خانہ کو تباہ کیا جا چکا تھا۔ جواب کا یہ دوسرا طریقہ علمی تنقید کی مثال ہے (تفصیل کے لیے دیکھیے فلپ کے ہٹی کی کتاب: ہسٹری آف دی عربس، صفحہ 166)۔ تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ذہنی ترقی (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ تنقیدی ماحول کے بغیر ذہنی ترقی کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب (choice) ہے وہ تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ تنقید کو ختم کرنے کے بعد جو چیز ہمارے حصے میں آئے گی وہ ذہنی ارتقاء کا خاتمہ ہوگا نہ کہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ۔ اجتہاد کا عمل بحث ومباحثہ (discussion) کے درمیان جاری ہوتا ہے۔ اجتہاد دراصل معلوم سے نامعلوم تک پہنچنے کا دوسرا نام ہے۔ کچھ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader