مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ مسائل ہوتے ہیں جن کا جواب ہمیں درکار ہوتا ہے۔ اب اگر کھلے اظہارِ خیال کا ماحول ہو تو ہر شخص آزادانہ طور پر اپنی رائے کو بیان کرے گا۔ اب افکار کا ٹکراؤ وجود میں آئے گا۔ اس طرح آزادانہ فکری تبادلے کے دوران معاملہ کے نئے پہلو سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد تنقیح کا عمل شروع ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ تحقیقی رائے سامنے آجائے گی جو ہماری فکری تلاش کا اصل مقصود تھی۔ اسی فکری عمل کا نام اجتہاد ہے۔ نظری اور عملی دونوں پہلوؤں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اجتہاد زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اجتہاد کسی گروہ کے لیے ترقی کا ضامن ہے۔ جس گروہ میں اجتہاد کا عمل رک جائے اس کے درمیان ترقی کا عمل بھی رک جائے گا۔ مگر اجتہاد کے عمل کو درست طور پر جاری ہونے کے لیے تنقید لازمی طور پر ضروری ہے۔ اجتہاد کا فائدہ انہیں لوگوں کو مل سکتا ہے جو تنقید کو گوارا کریں۔ جن لوگوں کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ وہ تنقید کو کھلے طور پر سنیں اور کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کر لیں ان کے حصہ میں کبھی وہ فکری خوش قسمتی نہیں آئے گی جس کو مجتہدانہ رائے قائم کرنا کہا جاتا ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں دو متقابل مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ میدانِ بدر کا انتخاب پیغمبرِ اسلام صلٰی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں 2ھ میں غزوہ بدر پیش آیا۔ اس وقت آپ مدینہ میں تھے۔ آپ کو خبر ملی کہ قریش کا ایک لشکر مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آپ نے اس کے مقابلے کے لیے ایک فوج تیار کی اور اس کو لے کر اس رخ پر روانہ ہوئے جدھر سے قریش کا لشکر آ رہا تھا۔ بدر سے پہلے ایک مقام پر آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑاؤ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن آگے بڑھتا ہے تو اس مقام پر اس سے مقابلہ کیا جائے گا۔ اس وقت ایک صحابی خباب بن منذر تھے اور رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر کہا کہ اے اللہ کے رسول، یہ جگہ جہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader