Urdu book · مسائلِ اجتہاد

میدان بدر کا انتخاب

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ ٹھہرے ہیں یہ اللہ کے حکم سے ہے یا یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ یہ سن کر صحابی نے کہا کہ پھر یہ تو کوئی پڑاؤ ڈالنے کی جگہ نہیں: فَإِنَّ هَذَا لَيْسَ بِسَمْنِزِلٍ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 259)۔ یہ واضح طور پر ایک اعتراض کا معاملہ تھا۔ مگر آپ نے اس اعتراض کو برا نہیں مانا بلکہ صحابی سے صرف یہ کہا کہ تمہاری یہ مخالف رائے کیوں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی رائے کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور دشمن کے درمیان کئی پانی کے کنویں ہیں۔ اگر ہم یہاں ٹھہریں اور دشمن کو آگے بڑھنے کا موقع دیں تو سارے کنویں دشمن کے قبضہ میں آجائیں گے۔ اس لیے ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم یہاں سے چل کر آگے کے مقام پر ٹھہریں اور ان سارے کنوؤں پر اپنا قبضہ کرلیں۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ ہم پانی پئیں گے اور وہ لوگ پانی نہ پا سکیں گے (فَنَشْرَبُ وَلَا يَشْرَبُونَ)۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے یہ سن کر کہا کہ تم نے بہت اچھی رائے دی: لَقَدْ أَشَرْتَ بِالرَّأْي (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 259)۔ یہ پوری گفتگو انتہائی معتدل ماحول میں ہوئی ۔ آخر کار رسول اللہ صلیٰ علیہ وسلم نے رائے دینے والے کی رائے کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اس کے مطابق عمل کیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ ہوا وہ یہ تھا کہ اہل اسلام کو اس مقابلے میں فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں صحیح رائے تک پہنچنے کے لیے آزادانہ اظہارِ خیال کا ماحول کتنا زیادہ ضروری ہے، اختلافی رایوں سے کس طرح معاملے کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں جو صحیح رائے تک پہنچنے کے لیے بے حد مددگار ہیں۔ اس معاملے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اختلاف رائے اگر بالفرض جارحانہ انداز میں ہو تب بھی اس کو خوش دلی کے ساتھ گوارا کرنا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page