تنقید نہ سننے کا نقصان
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
تنقید نہ سننے کا نقصان سید احمد شہید بریلوی نے 1831ء میں مسلمانوں کی ایک فوج کے ساتھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کیا۔ یہ واقعہ بالا کوٹ ( پنجاب ) میں پیش آیا۔ اس جنگ میں سید احمد شہید بریلوی اور ان کے اکثر ساتھی رنجیت سنگھ کی فوجوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ یہ پرجوش جہاد عملی اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوا۔ سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو ان سے بیعت کیے ہوئے تھے۔ انہی میں سے ایک مولانا میر محبوب علی دہلوی ( وفات 1280ھ ) تھے۔ وہ اپنے وقت کے ایک مشہور عالم تھے۔ وہ سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں شریک ہو کر روانہ ہوئے۔ چارسدہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا گیا۔ یہاں پہنچ کر مولانا میر محبوب علی صاحب کو سید صاحب سے اختلاف ہو گیا۔ مولانا میر محبوب علی صاحب نے اپنی اس اختلاف کی روداد اپنی عربی کتاب ” تاریخ الائمۃ فی خلفاء الامۃ “ میں درج کی ہے۔ یہ کتاب دہلی میں جامعہ ہمدرد ( تغلق آباد ) کے کتب خانہ میں موجود ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میر محبوب علی صاحب نے چارسدہ کے مقام پر سید احمد شہید بریلوی سے خلوت میں ملاقات کی۔ انہوں نے سید صاحب سے پوچھا کہ آپ نے سکھوں کے خلاف جہاد کا یہ اقدام کس بنیاد پر کیا ہے۔ سید صاحب نے بتایا کہ کشف اور خواب کی بنیاد پر۔ میر محبوب علی صاحب نے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں ہے کہ — وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (42:38) یعنی، وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ جہاد کا فیصلہ مشورہ کے ذریعہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو بھی مشورہ کرنا چاہیے اور اقدام سے پہلے اس معاملے کی پوری تحقیق کرنا چاہیے۔ مگر سید احمد شہید بریلوی نے میر محبوب علی صاحب کی اس بات کو نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ تم اپنی اس تنقید سے میرے کام میں خلل ڈال رہے ہو، تمہاری اطاعت خاموشی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader