تنقید نہ سننے کا نقصان
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ سننے کی ہونی چاہیے، ایسی خاموشی جیسی اس سامنے والے پہاڑ کی ہے۔ سید صاحب سے میر محبوب علی صاحب کی یہ گفتگو نا کام رہی چنانچہ وہ واپس ہو کر دہلی آگئے۔ سید صاحب نے اس پر سخت ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: مَنْ ذَهَبَ مِنْ عِنْدِي إِلَى وَطَنِهِ مُرَاجِعاً فَقَدْ ذَهَبَ إِيْمَانُهُ ( بحوالہ مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، از مولانا شاہ ابو الحسن زید فاروقی، صفحہ 87-86)۔ اس واقعے کو بعض کتابوں میں میر محبوب علی صاحب کی گمراہی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مولانا سید عبدالحئی صاحب ( سابق ناظم ندوۃ العلما لکھنؤ) نے لکھا ہے کہ مولانا میر محبوب علی صاحب اپنے وقت کے مشہور علما میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سید احمد شہید بریلوی کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی اور سید صاحب اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ یاغستان کا سفر کیا۔ مگر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا چنانچہ انہوں نے سید صاحب کا ساتھ چھوڑ دیا اور ہندوستان واپس آ گئے۔ وَبَايَعَ السَّّيِّدَ الْمُجَاهِدَ أَحْمَدَ بْنَ عِرْفَانَ الْبَرِيْلَوِيِّ بَيْعَةَ الْجِهَادِ، وَسَافَرَ إِلَى يَاعُسْتَانَ مَعَ أَصْحَابِهِ لِيَنْصُرَهُ فِي الْجِهَادِ، وَلَكِنَّ الشَّيْطَانَ وَسْوَسَ فِي صَدْرِهِ فَتَأَخَّرَ وَرَجَعَ إِلَى الْهِنْدِ (نزهة الخواطر و بہجۃ المسامع والنواظر، جلد 7، صفحہ 407-406)۔ سید احمد شہید بریلوی نے اپنے اقدام کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا۔ انہوں نے یہ تحقیق بھی نہیں کی کہ پنجاب میں اسلامی شعائر کی بے حرمتی کی خبریں جو انہوں نے سنی ہیں وہ کس حد تک درست ہیں۔ انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی طاقت کتنی زیادہ ہے اور ان کے اپنے مریدوں کی غیر تربیت یافتہ فوج کس حد تک اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ وہ محض خوش عقیدگی کے تحت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ریاست میں داخل ہو گئے، جب کہ یہاں کے جغرافیہ کا بھی انہیں پوری طرح علم نہ تھا۔ فطری طور پر اس کا انجام یہ ہوا کہ سید صاحب اور ان کے بیشتر ساتھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader