مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
فوج کے ہاتھوں مارے گئے ۔ ان کی یہ مہم مسلمانوں کی ایک طرفہ تباہی کے ساتھ ختم ہو گئی۔ اس دوسری مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں درست رائے تک پہنچنے کے لیے یہ کتنا ضروری ہے کہ اختلاف رائے کا کھلا ماحول ہو، لوگوں کی تنقید میں خوش دلی کے ساتھ سنی جائیں اور علمی بحث ومذاکرے کے بعد درست فیصلے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ شخصیت نہیں بلکہ اصول ایک عالم نے ایک علمی مسئلہ میں اپنے شیخ طریقت پر تنقید کی۔ کسی نے کہا کہ آپ اپنے شیخ پر تنقید کر رہے ہیں۔ عالم نے جواب دیا: نَحْنُ نُحِبُّ شَيْخَنَا وَلَکِنَّ الْحَقَّ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنَ الشَّيْخ۔ یعنی، ہم اپنے شیخ سے محبت کرتے ہیں مگر حق ہم کو شیخ سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ مذکورہ عالم کا یہ قول ایک اہم حقیقت کو بتاتا ہے۔ وہ یہ کہ جب کسی مسئلہ میں کوئی تنقیدی بات کہی جائے تو خواہ بظاہر وہ کسی متعین شخص کے حوالے سے کہی گئی ہو، مگر وہ ایک اصول پر تنقید ہوتی ہے۔ اس قسم کی تنقید میں شخصیت کا حوالہ ضروری ہے، کیوں کہ شخصی حوالے کے بغیر تنقید ایک مجہول اظہار رائے بن جائے گی اور تنقید کا اصل مقصد حاصل نہ ہوگا۔ تنقید یا اختلاف رائے کا عمل اسلام کی پوری تاریخ میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ صحابہ کے درمیان آپس میں بہت سے اختلافات تھے اور اکثر کھلے انداز میں اس کا اظہار ہوتا تھا۔ اسی طرح تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علما وغیرہ، کے درمیان ہمیشہ اختلافات رہے ہیں اور ان کا کھلا اظہار بھی ہمیشہ کیا جاتا رہا ہے۔ مگر کبھی کسی نے ان اختلافات کو برا نہیں بتایا اور نہ یہ کہا کہ اختلاف اور تنقید کا طریقہ ختم کر دینا چاہیے۔ اسلامی تاریخ کے پورے قدیم دور میں تنقید اور اختلاف کو ہمیشہ گوارا کیا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ تنقید واختلاف کو اصول کی نسبت سے دیکھتے تھے نہ کہ شخصیتوں کی نسبت سے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب دین انسانیت باب ”حریت فکر“)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader