Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

تنقید کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سننا اور اس پر غور کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی شخصیتوں کی عظمت میں گم نہیں ہے۔ اس کے نزدیک اصل اہمیت اصول کی ہے نہ کہ شخصیت کی۔ ایسا آدمی کسی شخصیت کے مجروح ہونے کو گوارا کر لے گا مگر حق کا مجروح ہونا اس کو گوارا نہ ہوگا۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر حقیقی دینی روح زندہ ہو۔ مگر جب کسی قوم پر زوال کا دور آجائے تو اس وقت شخصیتیں ہی لوگوں کا مرجع بن جاتی ہیں۔ اب لوگ اصول کے بارے میں حساس نہیں ہوتے۔ البتہ وہ اپنی محبوب شخصیتوں کے بارے میں بے حد حساس ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دور زوال میں تنقید لوگوں کے لیے ایک مبغوض چیز بن جاتی ہے۔ یہ لوگ جب بھی کوئی ایسی تنقید سنتے ہیں جس کی زدان کے مفروضہ اکابر پر پڑ رہی ہو تو وہ سخت برہم ہو جاتے ہیں ، ان کی یہ برہمی بظاہر ناقد کے خلاف ہوتی ہے ، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ ابھی تک معرفت حق کی لذت سے آشنا نہ ہو سکے۔ حق کے نام سے وہ صرف کچھ شخصیتوں کو جانتے ہیں نہ کہ خود حق و صداقت کو۔ تنقید کا فائدہ تنقید کوئی برائی نہیں ، تنقید ایک نعمت ہے۔ تنقید علم کے نئے گوشوں کو کھولتی ہے۔ تنقید کے ذریعہ معاملے کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ تنقید کوئی عیب زنی نہیں۔ تنقید اپنی حقیقت کے اعتبار سے ناقد شخص اور زیر تنقید شخص کے درمیان ایک قسم کی تفکیری شرکت (intellectual sharing) ہے جو دونوں ہی کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ تنقید یکساں طور پر دونوں کے ذہنی افق کو وسیع کرتی ہے۔ سچی تنقید ایک انسان کی طرف سے دوسرے انسان کے لیے علمی تحفہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ اس شخص پر رحم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page