Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تنقید کا فائدہ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے جو مجھ کو میرے عیوب کا ہدیہ بھیجے: رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً أَهْدَى إِلَيَّ عُيُوبِي (مسند الدارمی، اثر نمبر 675)۔ تنقید کا انتہائی مفید ہونا راقم الحروف کے لیے صرف ایک نظری بات نہیں۔ وہ میرے لیے ایک عملی تجربہ ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ میں پیدائشی طور پر ایک تنقید پسند آدمی ہوں۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر میں اپنے قریبی ساتھیوں سے ہمیشہ یہ امید کرتا ہوں کہ وہ میرے اوپر علمی تنقید کریں۔ اس معاملے میں میرا مزاج کیا ہے اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔ میرے ایک رفیق کار مولانا انیس لقمان ندوی تقریباً 8 سال تک میرے ساتھ تھے۔ اب وہ ایک عرب ملک میں ہیں۔ پہلی بار جب وہ عرب گئے تو ایک شیخ نے ان سے پوچھا کہ تم ہندوستان میں کیا کام کرتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: أَنَا نَاقِدٌ أَكْبَرُ نَاقِدٍ فِي الْهِنْد۔ یعنی، میں ہندوستان کے سب سے بڑے ناقد کا ناقد ہوں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنقید کے معاملے میں میرا ذوق کیا ہے۔ ایک صاحب علم کے لیے سب سے زیادہ لذیذ چیز علمی تبادلہ خیال ہے۔ تنقید میں بظاہر ایک شخص سامنے آتا ہے۔ مگر حقیقتاً تنقید کا نشانہ شخص نہیں ہوتا بلکہ موضوع ہوتا ہے۔ سچی تنقید دو شخصوں کے درمیان ایک موضوع پر ڈسکشن ہے، خواہ بظاہر وہ کسی فرد کے حوالہ سے کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سچی تنقید کبھی کسی شخص کے لیے ذاتی وقار کا سوال نہیں بنتی۔ کیوں کہ سچی تنقید میں کوئی ذات سرے سے نشانے پر ہوتی ہی نہیں۔ تنقید اگر صحیح ہو تو وہ آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کو درست کرلے۔ وہ غلط فکر کے اندھیرے سے نکل کر صحیح فکر کی روشنی میں آچائے۔ وہ اپنے آپ کو علمی اعتبار سے پہلے سے زیادہ درست انسان بنالے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تنقید کرنے والے کی تنقید صحیح نہ ہو تب بھی اس میں یہ فائدہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page