تنقید کا فائدہ
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ اس سے موضوع کے مزید گوشے واضح ہوتے ہیں۔ زیر تنقید شخص اگر تنقید کو سن کر برہم نہ ہو تو تنقید اس کی قوت فکر کو بڑھائے گی ۔ وہ اس کے اندر تخلیقی فکر ( creative thinking ) لانے کا سبب بنے گی ۔ وہ اس کو موقع دے گی کہ وہ اپنی بات کو زیادہ واضح اور زیادہ مدلل انداز میں پیش کر سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید ہر حال میں مفید ہے ، خواہ وہ صحیح تنقید ہو یا غلط تنقید۔ 1965 کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں لکھنو میں تھا۔ میری ملاقات ایک غیر مسلم اسکالر سے ہوئی۔ وہ مذاہب یا مذہبی شخصیتوں کو نہیں مانتے تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے پیغمبر اسلام پر تنقید کی۔ آپ کے خلاف بولتے ہوئے انہوں نے کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی۔ ان کے یہ الفاظ یقیناً اشتعال انگیز تھے۔ اگر میں اس پر غصہ ہو جاتا تو میں صرف یہ کرتا کہ ان کو لعن طعن کرتا اور لاحول ولاقوة پڑھتے ہوئے وہاں سے واپس چلا آتا۔ مگر اللہ کے فضل سے میں نے اپنے ذہنی اعتدال کو باقی رکھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میرے ذہن میں فکری عمل مثبت انداز میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک لمحہ کے بعد میری زبان پر ان کی بات کا یہ جواب آ گیا : وہی کمی جو محمد سے پہلے تاریخ میں تھی۔ مذکورہ تنقید نے مجھے پیغمبر اسلام کی سیرت کے ایک ایسے پہلو پر سوچنے پر مجبور کر دیا جو اس سے پہلے میرے ذہن میں واضح نہ تھا۔ اس طرح مذکورہ اسکالر کی تنقید میرے لیے سیرت کے ایک نئے اور بے حد اہم گوشہ کی دریافت کا سبب بن گئی۔ جب میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا کی تمام سائنسی اور تہذیبی ترقیاں پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد ظہور میں آئی ہیں، آپ سے پہلے ان چیزوں کا کوئی وجود ہی نہ تھا تو یہ سوچ میرے لیے ایک نئی دریافت تک پہنچنے کا ذریعہ بن گئی۔ میں نے یہ دریافت کیا کہ دونوں واقعات میں ایک گہرا رشتہ ہے۔ اس دریافت کے بعد میں نے اس موضوع پر باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ اس مطالعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader