Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

کا نتیجہ راقم الحروف کی وہ کتاب تھی جو اسلام دور جدید کا خالق (Islam: The Creator of the Modern Age) کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر تنقید کو سن کر برہم نہ ہو، وہ اپنے ذہنی اعتدال کو برقرار رکھے تو تنقید اس کے لیے کتنی زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ صحیح معیار اور غلط معیار مقلدانہ فکر کے بہت سے نقصانات ہیں۔ ان میں شاید سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگ حق کو خود حق سے نہیں پہچانتے بلکہ وہ اس کو رجال کی نسبت سے پہچانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا سب سے بڑا مرجع ان کے مفروضہ بزرگ بن جاتے ہیں۔ یہ مفروضہ بزرگ جس چیز کو حق بتائیں اس کو وہ حق مان لیتے ہیں۔ کوئی شخص جو ان کے مفروضہ بزرگوں کی فہرست میں شامل نہ ہو وہ خواہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ کسی بات کو پیش کرے، وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، کیوں کہ ان کے اندر یہ ذاتی صلاحیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ دلیل کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانیں اور اس کو اختیار کر لیں۔ یہی واحد سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر دور میں پیغمبروں کا انکار کیا گیا۔ پیغمبر اپنے معاصرین کو ایک نیا شخص دکھائی دیتا تھا جو ان کے مفروضہ بزرگوں کی فہرست سے باہر تھا، اس لیے وہ پیغمبر کو اس کی زندگی میں قابل لحاظ شخص کا درجہ نہ دے سکے۔ مزید یہ کہ پیغمبر جب ان کی محبوب شخصیتوں پر تنقید کرتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ بھڑک جاتے اور اس کے پیغام پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے۔ مقلدانہ ذہن اور مجتہدانہ ذہن کے درمیان سب سے زیادہ اہم فرق یہ ہے کہ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ حق کو صرف اپنی شخصیتوں کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔ اس کے برعکس، مجتہدانہ ذہن رکھنے والے لوگوں میں یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ حق کو خالص دلیل کے زور پر پہچانیں اور اس کو پوری آمادگی کے ساتھ اختیار کر سکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page