Urdu book · مسائلِ اجتہاد

صحیح معیار اور غلط معیار

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ عین اسی چیز سے محروم ہو جاتے ہیں جس کو دین میں سب سے زیادہ اہم حیثیت حاصل ہے، یعنی معرفت والا ایمان۔ معرفت والے ایمان کا سر چشمہ ذاتی دریافت (self-discovery) ہے۔ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ خود اپنے ذہن کو آزادانہ طور پر استعمال ہی نہیں کرتے، اس لیے وہ معرفت والے اسلام سے آشنا نہیں ہوتے۔ مجتہدانہ ذہن رکھنے والوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایسے لوگوں کے ذہن کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ آزادانہ طور پر غور و فکر کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر کسی چیز کا حق ہونا ظاہر ہو تو وہ فوراً اس کو پہچان لیں اور کسی تردد کے بغیر اس کو مان لیں۔ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ وہ حق کو دریافت کرے۔ یہ احساس کہ میں نے سچائی کو پا لیا ہے، بلاشبہ اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ مگر عظیم ترین نعمت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو مجتہدانہ فکر کے حامل ہوں۔ جو لوگ مقلدانہ فکر کے اندھیروں میں گم ہوں وہ کبھی معرفت والی سچائی کا تجربہ نہیں کر سکتے۔ انقلابی ذہن کی ضرورت شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات (1762) نے اپنی کتاب عقد الجید (صفحہ (4) میں اجتہاد اور مجتہد کے مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجتہد وہ ہے، جس کے اندر پانچ قسم کے علوم موجود ہوں ۔ کتاب اللہ کا علم، سنت رسول کا علم، علما سلف کے اقوال یعنی ان کے اتفاقات اور اختلافات کا علم، زبان کا علم، اور قیاس واستنتباط کا علم (اَلْمُجْتَهِدُ مَنْ جَمَعَ خَمْسَةَ أَنْوَاعِ مِنَ الْعِلْمِ: عِلْمَ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعِلْمَ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَأَقَاوِيلَ عُلَمَاءِ السَّلَفِ مِنْ إِجْمَاعِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ، وَعِلْمَ اللُّغَةِ، وَعِلْمَ الْقِيَاسِ)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page