Urdu book · مسائلِ اجتہاد

صحیح معیار اور غلط معیار

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

شاہ ولی اللہ دہلوی (اور دوسرے علما) نے مجتہد کی جو شرطیں لکھی ہیں وہ بجائے خود درست ہیں۔ مگر یہ شرطیں صرف مقید اجتہاد کے لیے کارآمد ہیں، غیر مقید اجتہاد کے لیے یہ شرطیں کافی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک عام اجتہاد اور دوسرا خاص اجتہاد۔ عام اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جو احوال ظاہری سے تعلق رکھتا ہو۔ اور خاص اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جس کا تعلق احوال باطنی سے ہے۔ یعنی وہ حالات جو اوپر ی سطح (face value) پر دکھائی نہ دیتے ہوں مگر وہ گہری سطح (under current) میں موجود ہوں۔ ان دونوں کے فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اجتہاد عام کا تعلق بصارت سے ہے، اور اجتہاد خاص کا تعلق بصیرت سے۔ مثال کے طور پر اگر مجتہد کے سامنے یہ مسئلہ ہو کہ مسح علی الخفین (چمڑے کے موزوں پرمسح) کی جو رعایت شریعت میں دی گئی ہے، کیا وہ رعایت موجودہ زمانے کے صنعتی موزوں پر بھی ہے، تو اس قسم کے اجتہاد کے لیے مذکورہ 5 علوم کی واقفیت کافی ہے۔ اسی طرح اگر یہ سوال ہو کہ انجکشن کی سوئی جسم میں داخل ہونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں تو اس مسئلے کا حکم معلوم کرنے کے لیے بھی مذکورہ پانچ علوم میں واقفیت کافی ہو سکتی ہے۔ ایسا آدمی اپنے اس علم کی بنیاد پر قدیم فقہی ذخیرہ میں ایک ایسا جزئیہ پا سکتا ہے جس میں فقیہ نے یہ فتویٰ دیا ہو کہ بچھو کسی کے جسم میں ڈنک داخل کر دے تو اس کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹیگا یا نہیں۔ مگر اجتہاد خاص کے لیے مذکورہ پانچ شرطوں کے علاوہ ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ مزید شرط حدیث کے الفاظ میں یہ ہے: وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی، دانا شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کو جاننے والا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page