صحیح معیار اور غلط معیار
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں جس مزید شرط کا ذکر ہے اس کو ایک لفظ میں حالات زمانہ سے واقفیت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی مجتہد جس زمان و مکان میں اجتہاد کر رہا ہے، اس زمان و مکان سے وہ بھر پور واقفیت رکھتا ہو۔ وہ تقلیدی علوم میں دستگاه کے ساتھ غیر تقلیدی علوم پر گہری نظر رکھتا ہو۔ یہ دوسری صلاحیت خارجی معلومات اور غور و فکر اور حقائق کی معرفت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں غیر مقید اجتہاد یا تحقیقی اجتہاد کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ اس قسم کی ایک مثال مدنی دور میں کی جانے والی صلح حدیبیہ ہے۔ اس صلح کے وقت بظاہر جو حالات تھے وہ تمام تر اہل اسلام کے خلاف تھے۔ کیوں کہ یہ 10 سالہ نا جنگ معاہدہ مخالفین کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر کیا جا رہا تھا۔ صلح کے اس ظاہری پہلو کی بنا پر اس کو قبول کرنا صحابہ پر سخت گراں گزر رہا تھا۔ حتیٰ کہ عمر فاروق نے اس معاہدہ کو دنیۃ (ذلت) قرار دیا (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3182)۔ اس معاملے کی حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا (27 :48)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ : پس جانا اللہ نے جو کچھ نہ جانا تم نے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم صرف دکھائی دینے والی باتوں کو جانتے تھے مگر اس کے ساتھ کچھ بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتیں بھی وہاں موجود تھیں اور اللہ کی رہنمائی سے اللہ کے رسول نے ان بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتوں کی بنیاد پر صلح کا یہ معاہدہ کیا۔ حدیبیہ کے وقت ظاہری باتیں تو یہ تھیں کہ یہ صلح مخالفین کی یکطرفہ شرطوں پر کی جا رہی تھی، مگر غیر ظاہری (under current) بات یہ تھی کہ اہل اسلام اور غیر اہل اسلام کے درمیان جنگی حالات کی بنا پر معتدل فضا میں اختلاط (interaction) ختم ہو گیا تھا۔ اب اگر دونوں فریقوں کے درمیان نا جنگ معاہدہ ہو جائے تو معتدل حالات میں لوگ ایک دوسرے سے ملنے لگیں گے اور دونوں فریقوں کے درمیان کھلا تبادلہ خیال (open dialogue)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader