صحیح معیار اور غلط معیار
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
شروع ہو جائے گا۔ اس عمل کے دوران اسلام کی خوبیاں اپنے آپ لوگوں کے اوپر ظاہر ہونے لگیں گی اور وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں: یَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (110:2) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ،لوگ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں فوج در فوج۔ چنانچہ یہی ہوا۔ صلح حدیبیہ کے وقت اہل اسلام کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی مگر اس کے بعد امن کے حالات میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی اس کے نتیجے میں دو سال سے بھی کم مدت میں اہل اسلام کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ کسی جنگ کے بغیر صرف عددی طاقت کے ذریعہ اہل اسلام کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ یہی واقعہ تیرہویں صدی میں ایک اور صورت میں پیش آیا۔ جنگجو تاتاری ہتھیار کی طاقت سے مسلم دنیا میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے سمرقند سے حلب تک مسلم بستیوں کو تباہ کیا اور عباسی خلافت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ فتنہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں میں یہ مقولہ مشہور ہو گیا کہ: مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ التَّتَرَ انْهَزَمُوا وَأُسِرُوا فَلَا تُصَدِّقُوهُ (الكامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد 10، صفحه 353 )۔ یعنی اگر تم سے کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا گئے اور قید کر لیے گئے تو تم اس کو نہ ماننا۔ یہ ظاہری صورت حال تھی۔ مگر اس کی تہہ میں ایک اور چیز چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ تاتاری نیزہ اور تلوار کی طاقت ضرور رکھتے تھے مگر وہ نظریہ حیات (ideology) سے خالی تھے۔ مسلمانوں سے اختلاط کے دوران وہ اسلام کے نظریہ سے متعارف ہوئے۔ چونکہ ان کے پاس اس سے مقابلے کے لیے کوئی جوابی نظریہ موجود نہ تھا، وہ تیزی سے اسلامی نظریہ سے متاثر ہونے لگے۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو ایک مشہور مستشرق فلپ کے ہٹی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہےـ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو گئے تھے: The religion of Muslims has conquered where their

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader