Urdu book · مسائلِ اجتہاد

صحیح معیار اور غلط معیار

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

arms had failed. (History of the Arabs by P. K. Hitti, 1989, p. 488) اب بعد کے زمانے کو دیکھیے۔ اس سلسلے میں پہلی سبق آموز مثال شاہ ولی اللہ دہلوی کی ہے۔ ان کے زمانے میں ہندوستان کی مغل سلطنت کمزور ہو گئی تھی۔ اور یہ آثار نظر آنے لگے تھے کہ جلد ہی وہ زوال کا شکار ہو کر ختم ہو جائے گی۔ اس وقت شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کوشش اس پر لگادی کہ یہ مسلم سلطنت کسی نہ کسی طرح دوبارہ مستحکم ہو جائے۔ انہوں نے اس وقت کے مسلم حکمرانوں کو جوش دلایا کہ تم لوگ تلوارلے کر اٹھو اور اپنے دشمنوں سے لڑ کر ان کا خاتمہ کر دو (التفہیمات الالہیہ، 1936، جلد 1، صفحہ 215-16)۔ دوسری طرف انہوں نے کابل کے حاکم احمد شاہ ابدالی کو ترغیب دی کہ وہ ہندوستان پر حملہ کر کے سکھوں اور مرہٹوں کا زور توڑ دے تاکہ مغل سلطنت محفوظ ہو کر قائم رہ سکے۔ مگر شاہ ولی اللہ کی یہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنے قریبی اور ظاہری حالات کو دیکھتے تھے۔ عالمی اعتبار سے حالات کا جو نیا سیلاب آرہا تھا اس سے وہ قطعا بے خبر تھے۔ نئے سیلاب سے میری مراد ڈیموکریسی کا دور ہے۔ شاہ ولی اللہ کا یہ خیال تھا کہ وہ قائم الزمان ہیں (فیوض الحرمین 2007، حیدر آباد سندھ، صفحہ 111)۔ مگر ان کی ساری سوچ جانے والے دورِ بادشاہت میں کام کر رہی تھی۔ آنے والے دورِ جمہوریت میں کیا صورت پیش آئے گی، اس سے وہ مطلع نہ ہو سکے۔ دورِ بادشاہت میں ایک شخص پورے ملک کا حاکم ہوا کرتا تھا مگر دورِ جمہوریت میں عوامی حاکمیت کا اصول رائج ہونے والا تھا۔ اور وہ مسئلہ پیدا ہونے والا تھا جس کو اکثریت کے مقابلے میں اقلیت کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ اگر حالات کے رخ کو دیکھ پاتے تو وہ اپنی ساری طاقت دعوت کے محاذ پر لگا دیتے۔ جس میں گویا اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کا راز چھپا ہوا تھا۔ دعوت کا مطلب یہ تھا کہ مغل سلطنت اگر ختم ہو جائے تب بھی اہل اسلام اپنی عددی برتری کے زور پر غالب حیثیت کے حامل ہوں گے۔ مگر شاہ ولی اللہ دہلوی دعوت کی اس انقلابی اہمیت سے بالکل بے خبر تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page