Urdu book · مسائلِ اجتہاد

صحیح معیار اور غلط معیار

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

حتیٰ کہ ان کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں ہر قسم کے ابواب ہیں مگر کتاب الدعوۃ یا کتاب التبلغ اس کے اندر موجود نہیں۔ اب سید جمال الدین افغانی (وفات (1897) کی مثال لیجیے۔ ان کے زمانے میں انگریز اور فرانسیسی تقریباً پوری مسلم دنیا پر سیاسی اعتبار سے غالب آ گئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنی پوری زندگی اس سیاسی غلبہ کو ختم کرنے میں لگادی۔ ان کا نعرہ تھا اَلشَّرْقُ لِلشَّرْقِیِّنَ (مشرق مشرقیوں کے لیے ہے)۔ بظاہر دیکھیے تو آج مغربی قوموں کا سیاسی تسلّط ختم ہو چکا ہے اور تقریباً ساٹھ آزاد مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر وجود میں آ چکے ہیں۔ مگر حقیقی حالات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوا۔ مسلم قومیں آج بھی اہل مغرب کی بالاتری کے تحت جینے پر مجبور ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی حالات کو صرف ظاہر کے اعتبار سے دیکھ سکے، وہ گہری حقیقتوں سے آشنا نہ ہو سکے ۔ وہ انگریز اور فرانسیسیوں کے غلبے کو صرف سیاسی غلبہ کے ہم معنی سمجھتے رہے۔ مگر یہ اصل معاملے کا صرف ایک ظاہری پہلو تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ مغربی قوموں نے علم میں تقدم حاصل کر لیا تھا، وہ سائنس اور ٹکنالوجی میں مسلمانوں سے آگے بڑھ گئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی اپنے قدیم سیاسی ذہن کی بنا پر معاملے کے ان گہرے پہلوؤں کو نہ دیکھ سکے۔ سید جمال الدین افغانی اگر جدید زمانے میں علم کی اہمیت کو سمجھتے تو وہ بیرونی غلبے کو ایک وقتی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے اور اپنی ساری طاقت اس راہ پر لگا دیتے کہ مسلمان علمی اعتبار سے اس طرح آگے بڑھ سکیں جس طرح مغربی قومیں اس میدان میں آگے بڑھ گئی ہیں۔ اگر وہ بے فائدہ سیاسی جہاد کو چھوڑ کر علمی جہاد میں سرگرم ہو جاتے اور اپنے ساتھیوں کو اس راہ پر لگا دیتے تو یقینی ہے کہ مسلم ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو آج ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page