اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن ہر دور میں مسلمانوں کے لیے ذہنی اور علمی ارتقاء کا ذریعہ رہا ہے۔ قرآن کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ ذہن انسانی کو مہمیز کرتا ہے اور اس کو بار بار غور و فکر کے اوپر ابھارتا ہے۔ قرآن اپنے لا محدود معانی کی بنا پر اہل اسلام کے لیے فکری ارتقاء کا ضامن ہے۔ ایسی کتاب میں نئی علمی دریافتوں کا دروازہ بند کرنا خود اس کتاب کے مقصد کی نفی کے ہم معنی ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں اہل اسلام ذہنی جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ نہ خود علمی ترقی کریں گے اور نہ انسانی قافلوں کی علمی و فکری قیادت کا مطلوب کام انجام دے سکیں گے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ تفسیر جو تدبر کے ساتھ کی جائے اور دوسری تفسیر وہ ہے جو تدبر کے بغیر کی جائے۔ اس دوسری تفسیر کا نام تفسیر بالرائے ہے۔ تدبر کے ساتھ تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ قاری عربی زبان نیز احادیث و آثار سے بخوبی واقفیت حاصل کرے۔ وہ قرآن کی صرف ایک آیت کو لے کر اس کی تفسیر نہ کرنے لگے، بلکہ وہ مجموعی طور پر پورے قرآن کے منشاء و مقصود کو سامنے رکھے۔ وہ قرآن سے متعلق دوسرے علوم سے گہری واقفیت حاصل کرے۔ اسی طرح وہ یہ کرے کہ دورِ اول سے لے کر بعد کے زمانے تک مسلمہ دینی شخصیتوں نے جو تفسیریں کی ہیں ان سے وہ بھر پور واقفیت حاصل کرے۔ اس کے ساتھ وہ تقویٰ کی صفت اپنے اندر پیدا کرے جس کو قرآن میں علم کا سرچشمہ بتایا گیا ہے (2:282)۔ یہ قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آدمی صرف اپنی رائے پر اعتماد کرے۔ آیت کے حوالے سے اس کے ذہن میں جو بھی خیال آ جائے وہ اس کو قرآن کی تفسیر سمجھ کر اسے بیان کرنے لگے۔ خواہ آیت کے سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ خواہ قرآن کے مجموعی احکام سے وہ مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہاں تفسیر بالرائے کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ 1- تفسیر بالرائے کی ایک صورت وہ ہے جو اتنی قبیح ہے کہ اس کو سننے اور پڑھنے کے بعد فوراً ہی سنجیدہ آدمی کا ذہن اس کو رد کر دے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے "وَرَبَّكَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader