Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

فَکَبِّرْ (74:3) ۔ اس آیت کا ترجمہ کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ اور تم اپنے رب کو بڑا کرو۔ اس ترجمہ کو لے کر آیت کی تفسیر انہوں نے یہ کی کہ خدا کی (سیاسی بڑائی) دنیا میں قائم کرو، خدا کی حکومت کا جھنڈا دنیا میں بلند کرو۔ یہ ترجمہ اور تفسیر دونوں تفسیر بالرائے کی ایک بدترین صورتیں ہے، عقل سلیم ہی اس کو غلط سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنے آپ میں بڑا ہے۔ وہ اس کا محتاج نہیں کہ اس کی کوئی مخلوق کسی پہلو سے اس کو بڑا کرے۔ آیت کے مطابق، انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کو اپنے دل اور دماغ میں اتارے۔ اللہ کی عظمت کا احساس اس کی روح کے اندر تیرنے لگے۔ اپنے چھوٹا ہونے اور اللہ کے بڑا ہونے کا عرفان اس کو انسان اصلی (man cut to size) بنادے۔ یہی تکبیر رب کا مطلب ہے۔ مذکورہ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ۔ اور اپنے رب کی بڑائی کرو، یا اپنے رب کی بڑائی بول، یا اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اس ترجمہ کے مطابق، آیت میں جس تکبیر رب کا ذکر ہے اس کا تعلق کسی خارجی سیاست سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی داخلی کیفیت سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا دماغ اللہ کی عظمت کو شعوری طور پر دریافت کرے ۔ اس کا دل اللہ کی عظمت کے احساس سے تڑپ اٹھے۔ اللہ کی عظمت کا اعتراف اس کی زبان پر جاری ہوجائے۔ یہی وہ تکبیر رب ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ 2 ۔ قرآن کے آغاز میں یہ آیت آئی ہے "ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ" (2:2) ۔ یعنی، یہ کتاب (الہی) ہے، اس میں کوئی شک نہیں، یا یہ کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اس آیت کی نحوی ترکیب میں کچھ اختلاف ہے۔ تاہم ہر مفسر نے یہاں کتاب کو کتاب ہی کے معنی میں لیا ہے۔ اس کے بارے میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ وہ تمام ترجمے غلط ہیں جن میں "ذٰلِکَ الْکِتٰبُ" کا ترجمہ کتاب سے کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک قرآن تمام علوم کا خزانہ ہے۔ اس لیے ذلک الکتاب کا سب سے قریبی ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page