اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ترجمہ یقینی طور پر رائے کی بنیاد پر کیا گیا ہے نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر اس لیے کہ انسائیکلو پیڈیا ایسی کتاب کا نام ہوتا ہے جس میں ہر قسم کی معلومات یکجا کی گئی ہوں۔ مگر قرآن انسائیکلو پیڈیا نئی مفہوم میں معلومات کا مجموعہ نہیں۔ اس کے بجائے وہ علم اور معرفت کا مجموعہ ہے۔ وہ خزانہ حکمت ضرور ہے مگر وہ معروف معنی میں ، خزانہ معلومات نہیں۔ مثال کے طور پر اسلام کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، مگر قرآن میں یکجائی طور پر کہیں یہ کلمہ موجود نہیں۔ اسلام میں نماز پانچ وقتوں کے لیے فرض کی گئی ہے۔ مگر پانچ کے عددی تعین کے ساتھ قرآن میں نماز کا حکم موجود نہیں۔ انسائیکلو پیڈیا میں جن اشخاص کا ذکر آتا ہے، اس میں سال پیدائش اور سال وفات کے ساتھ ان کا ذکر آتا ہے۔ مگر قرآن میں پیغمبر اسلام نیز دوسرے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کی سال پیدائش یا سال وفات قرآن میں مذکور نہیں۔ اس طرح کی ہزاروں معلوماتی باتیں ہیں جن سے قرآن کے صفحات خالی ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کتاب کا ترجمہ انسائیکلو پیڈیا کے لفظ سے کرنا ایک ذاتی ایچ ہے، اس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔ 3۔ قرآن میں ایک حکم وہ ہے جو ”أَقِيمُوا الدِّينَ“ (42:13) کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس آیت کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ تم الدین کو قائم کرو۔ کچھ لوگوں نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں الدین سے مراد قرآن وحدیث میں وارد شدہ تمام شرعی اور دینی احکام ہیں۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام شرعی اور دینی احکام کو ایک مکمل نظام کے طور پر دنیا میں نافذ کرو۔ آیت کی تفسیر بلاشبہ تفسیر بالرائے کے حکم میں آتی ہے کیوں کہ وہ قرآن فہمی کے واضح اصولوں کے خلاف ہے۔ مثال کے طور پر، اس آیت میں صراحتاً اس حصہ دین کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے۔ جو حضرت نوح کو اور حضرت ابراہیم کو اور حضرت موسیٰ کو اور حضرت عیسیٰ کو اور حضرت محمد کو مشترک طور پر دیا گیا۔ اس مخصوص انداز بیان کی بنا پر تمام مفسرین نے اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader